ٹیگ کے محفوظات: حیرت

صاحبا! خاک نشینوں کو فراغت کیسی

کربلا نقش ہے سینوں میں ، اذیّت کیسی
صاحبا! خاک نشینوں کو فراغت کیسی
میں نہ یوسفؑ نہ مسیحائی کے فن میں یکتا
پھر یہ کم بخت مرے نام کی شہرت کیسی؟
میرؔ سے، جونؔ سے نسبت کا اثر ہے صاحب!
میں اگر شعر سناتا ہوں تو حیرت کیسی؟
اِس سے صحرا کی جلالت میں کمی آتی ہے
ساتھ لائے ہو مرے یار یہ وحشت کیسی؟
مذہبِ حُسن و محبت کے شفا خانوں پر
مے کشو! جام اُٹھانے کی اجازت کیسی؟
میں فلکؔ زاد، بلا نوش تری مرضی پر
آسماں چھوڑ کے آتا ہوں تو عجلت کیسی؟
افتخار فلک

آشوب وحدت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 115
والے فرقت میں وصلت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
آشوب وحدت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
روح کل سےسب روحوں پر وصل کی حسرت طاری ہے
اک سر حکمت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
بے احوالی کی حالت ہے شاید یا شاید کہ نہں
پر احوالیت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
مختاری کے لب سلوانا جبر عجب تر ٹھہرا ہے
ہیجان غیرت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
بابا الف ارشاد کناں ہیں پیش عدم کے بارے میں
حیرت بے حیرت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
معنی ہیں لفظوں سے برہم قہر خموشی عالم ہے
ایک عجب حجت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
موجودی سے انکاری ہے اپنی ضد میں ناز وجود
حالت سی حالت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
جون ایلیا

بے مروت اس زمانے میں ہمہ حیرت ہے اب

دیوان ششم غزل 1812
آئینہ سا جو کوئی یاں آشنا صورت ہے اب
بے مروت اس زمانے میں ہمہ حیرت ہے اب
کیا کوئی یاری کسو سے کرکے ہووے شاد کام
دوستی ہے دشمنی الفت نہیں کلفت ہے اب
چاہتا ہے درد دل کرنا کسو سے دل دماغ
سو دماغ اپنا ضعیف اور قلب بے طاقت ہے اب
کیونکے دنیا دنیا رسوائی مری موقوف ہو
عالم عالم مجھ پہ اس کے عشق کی تہمت ہے اب
اشک نومیدا نہ پھرتے ہیں مری آنکھوں کے بیچ
میر یہ دے ہے دکھائی جان کی رخصت ہے اب
میر تقی میر

دریا دریا روتا ہوں میں صحرا صحرا وحشت ہے

دیوان پنجم غزل 1740
عالم عالم عشق و جنوں ہے دنیا دنیا تہمت ہے
دریا دریا روتا ہوں میں صحرا صحرا وحشت ہے
ہم تو عشق میں ناکس ٹھہرے کوئی نہ ایدھر دیکھے گا
آنکھ اٹھاکر وہ دیکھے تو یہ بھی اس کی مروت ہے
ہائے غیوری جس کے دیکھے جی ہی نکلتا ہے اپنا
دیکھیے اس کی اور نہیں پھر عشق کی یہ بھی غیرت ہے
کوئی دم رونق مجلس کی اور بھی ہے اس دم کے ساتھ
یعنی چراغ صبح سے ہیں ہم دم اپنا بھی غنیمت ہے
خط آئے ظاہر ہے ہم پر بگڑی بھی اچھی صورت تھی
بارے کہو ناکام ہی ہو یا کام کی بھی کچھ صورت ہے
ایک ورق پر تصویریں میں دیکھی ہیں لیلی و مجنوں کی
ایسی صورت حال کی اپنی ان دونوں کو حیرت ہے
خاک سے آدم کرکے اٹھایا جس کو دست قدرت نے
قدر نہیں کچھ اس بندے کی یہ بھی خدا کی قدرت ہے
صبح سے آنسو نومیدانہ جیسے وداعی آتا تھا
آج کسو خواہش کی شاید دل سے ہمارے رخصت ہے
کیا دلکش ہے بزم جہاں کی جاتے یاں سے جسے دیکھو
وہ غم دیدہ رنج کشیدہ آہ سراپا حسرت ہے
جب کچھ اپنے کنے رکھتے تھے تب بھی صرف تھا لڑکوں کا
اب جو فقیر ہوئے پھرتے ہیں میر انھیں کی دولت ہے
میر تقی میر

کہیں اپنے رونے سے فرصت ہے مجھ کو

دیوان پنجم غزل 1707
کیا فرض ہستی کی رخصت ہے مجھ کو
کہیں اپنے رونے سے فرصت ہے مجھ کو
پھروں ہوں ترے عشق میں کوچہ کوچہ
مگر کوچہ گردی سے الفت ہے مجھ کو
کہاں زندگی مدت العمر ظالم
ترے عشق میں دم غنیمت ہے مجھ کو
نہ کر شور ناصح بہت ناتواں ہوں
کہاں بات اٹھانے کی طاقت ہے مجھ کو
ہیں اسباب مرنے کے سب تیرے غم میں
جیا اب تلک کیونکے حیرت ہے مجھ کو
دل اتنا ہے آشفتہ خورشیدرو کا
کہ اپنے بھی سائے سے وحشت ہے مجھ کو
کڑھوں ہوں گا من مانتا میر صاحب
غم یار میں کیا فراغت ہے مجھ کو
میر تقی میر

وے اندھیری مینھ برسے جوں کبھو شدت سے یاں

دیوان چہارم غزل 1459
ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں
وے اندھیری مینھ برسے جوں کبھو شدت سے یاں
کس قدر بیگانہ خو ہیں مردمان شہرحسن
بات کرنا رسم و عادت ہی نہیں الفت سے یاں
اٹھ گئے ہیں جب سے ہم سونا پڑا ہے باغ سب
شور ہنگام سحر کا مہر ہے مدت سے یاں
سر کوئی پھوڑے محبت میں تو بارے اس طرح
مر گیا ہے عشق میں فرہاد جس قدرت سے یاں
دلکشی اس بزم کی ظاہر ہے تم دیکھو تو ہو
لوگ جی دیتے چلے جاتے ہیں کس حسرت سے یاں
صورتوں سے خاکداں یہ عالم تصویر ہے
بولیں کیا اہل نظر خاموش ہیں حیرت سے یاں
فہم حرفوں کے تنافر کا بھی یاروں کو نہیں
اس پہ رکھتے ہیں تنفر سب مری صحبت سے یاں
پنج روزہ عمر کریے عاشقی یا زاہدی
کام کچھ چلتا نہیں اس تھوڑی سی مہلت سے یاں
کیا سرجنگ و جدل ہو بے دماغ عشق کو
صلح کی ہے میر نے ہفتاد و دو ملت سے یاں
میر تقی میر

وہ لوگ ادا اجر رسالت نہیں کرتے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 259
جو معرکۂ صبر میں نصرت نہیں کرتے
وہ لوگ ادا اجر رسالت نہیں کرتے
ہوتی ہے یہی مصحف ناطق کی نشانی
نیزے پہ بھی سر بولے تو حیرت نہیں کرتے
جب تشنہ دہاں خود نہ دیں اس کی اجازت
دریا بھی قریب آنے کی ہمت نہیں کرتے
پھولوں سے بہت ڈرتے تھے باطل کے گنہگار
کیوں تیر چلا دینے میں عجلت نہیں کرتے
وہ ہاتھ کٹا دیتے ہیں سر دینے سے پہلے
مظلوم کبھی ظلم کی بیعت نہیں کرتے
کوثر پہ نہ کیوں حق ہو کہ دنیا میں بھی ہم لوگ
گریہ نہیں کرتے ہیں کہ مدحت نہیں کرتے
اس وقت سے ظالم کے مقابل ہیں سو اب تک
بیعت ہے بڑی چیز، اطاعت نہیں کرتے
یہ اشک عزا اور یہ دنیا کے خزانے
ہم اپنے چراغوں کی تجارت نہیں کرتے
اس آئینہ خانے کی طرف دیکھتے ہیں ہم
پھر کوئی زیارت کسی صورت نہیں کرتے
جز حرف دلا کچھ بھی عبارت نہیں کرتے
ہم اور سخن کوئی سماعت نہیں کرتے
جس طرح چلے سبط نبی شہر نبی سے
اس طرح تو مہماں کو بھی رُخصت نہیں کرتے
اک درد کو کرتے ہیں جہاں گیر جہاں تاب
ہم صرف وہ تاریخ روایت نہیں کرتے
وہ شمع بجھی اور یہ حقیقت ہوئی روشن
ارباب وفا ترک رفاقت نہیں کرتے
عرفان صدیقی

آخری معرکۂ صبر ہے عجلت کی جائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 250
ختم ہو جنگ خرابے پہ حکومت کی جائے
آخری معرکۂ صبر ہے عجلت کی جائے
ہم نہ زنجیر کے قابل ہیں نہ جاگیر کے اہل
ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے
مملکت اور کوئی بعد میں ارزانی ہو
پہلے میری ہی زمیں مجھ کو عنایت کی جائے
یا کیا جائے مجھے خوش نظری سے آزاد
یا اسی دشت میں پیدا کوئی صورت کی جائے
ہم عبث دیکھتے ہیں غرفۂ خالی کی طرف
یہ بھی کیا کوئی تماشا ہے کہ حیرت کی جائے
گھر بھی رہیے تو چلے آتے ہیں ملنے کو غزال
کاہے کو بادیہ پیمائی کی زحمت کی جائے
اپنی تحریر تو جو کچھ ہے سو آئینہ ہے
رمز تحریر مگر کیسے حکایت کی جائے
عرفان صدیقی

اس سے بچھڑے ہیں تو حاصل ہے فراغت کیسی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 219
اب وہ بے تابیِ جاں کا ہے کی‘ وحشت کیسی
اس سے بچھڑے ہیں تو حاصل ہے فراغت کیسی
جان، ہم کارِ محبت کا صلہ چاہتے تھے
دلِ سادہ کوئی مزدور ہے اجرت کیسی
عمر کیا چیز ہے احساسِ زیاں کے آگے
ایک ہی شب میں بدل جاتی ہے صورت کیسی
شمعِ خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں
جس کو جانا ہے چلا جائے اجازت کیسی
اس زمیں پر مرے یکتا ترے تمثال بہت
آئینہ خانے میں آیا ہے تو حیرت کیسی
دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی
عرفان صدیقی

مجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 181
وہ نظر آئنہ فطرت ہی سہی
مجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی
زندگی داغ محبت ہی سہی
آپ سے دور کی نسبت ہی سہی
تم نہ چاہو تو نہیں کٹ سکتی
ایک لمحے کی مسافت ہی سہی
دل محبت کی ادا چاہتا ہے
ایک آنسو دم رخصت ہی سہی
آب حیواں بھی نہیں مجھ پہ حرام
زہر کی مجھ کو ضرورت ہی سہی
اپنی تقدیر میں سناٹا ہے
ایک ہنگامے کی حسرت ہی سہی
اس قدر شور طرب کیا معنی
جاگنے کی مجھے عادت ہی سہی
بزم رنداں سے تعلق کیسا
آپ کی میز پہ شربت ہی سہی
حد منزل ہے مقرر باقیؔ
رہرو شوق کو عجلت ہی سہی
باقی صدیقی