ٹیگ کے محفوظات: حِنا

اے خدا اب کے چلے زرد ہوا ، آہستہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 69
دُکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا ! آہستہ
اے خدا اب کے چلے زرد ہوا ، آہستہ
خواب جل جائیں ، مری چِشم تمنّا بُجھ جائے
بس ہتھیلی سے اُڑے رنگ حِنا آہستہ
زخم ہی کھولنے آئی ہے تو عجلت کیسی
چُھو مرے جسم کو ، اے بادِ صبا ! آہستہ!
ٹوٹنے اور بکھرنے کا کوئی موسم ہو
پُھول کی ایک دُعا۔۔۔۔موجِ ہوا! آہستہ
جانتی ہوں کہ بچھڑنا تری مجبوری ہے
مری جان ! ملے مجھ کو سزا آہستہ
میری چاہت میں بھی اب سوچ کا رنگ آنے لگا
اور ترا پیار بھی شدّت میں ہوا آہستہ
نیند پر جال سے پڑنے لگے آوازوں کے
اور پھر ہونے لگی تیری صدا آہستہ
رات جب پُھول کے رُخسار پہ دھیرے سے جُھکی
’’چاند نے جھک کے کہا ، اور ذرا آہستہ!‘‘
پروین شاکر

کام ، پت جھڑ کے اسیروں کی دُعا آئی ہو

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 47
سبز موسم کی خبر لے کے ہَوا آئی ہو
کام ، پت جھڑ کے اسیروں کی دُعا آئی ہو
لَوٹ آئی ہو وہ شب جس کے گُزر جانے پر
گھاٹ سے پائلیں بجنے کی صدا آئی ہو
اِسی اُمید میں ہر موجِ ہَوا کو چُوما
چُھو کے شاید میرے پیاروں کی قبا آئی ہو
گیت جِتنے لِکھے اُن کے لیے اے موج صبا!
دل یہی چاہا کہ تو اُن کو سُناآئی ہو
آہٹیں صرف ہَواؤں کی ہی دستک نہ بنیں
اب تو دروازوں پہ مانوس صدا آئی ہو
یُوں سرِ عام، کُھلے سر میں کہاں تک بیٹھوں
کِسی جانب سے تو اَب میری ردا آئی ہو
جب بھی برسات کے دن آئے ،یہی جی چاہا
دُھوپ کے شہر میں بھی گِھر کے گھٹا آئی ہو
تیرے تحفے تو سب اچھے ہیں مگر موجِ بہار!
اب کے میرے لیے خوشبوئے حِنا آئی ہو
پروین شاکر