ٹیگ کے محفوظات: حوصلے

شکستِ خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 66
بجا کہ آنکھوں میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
شکستِ خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں
نہیں نہیں ! یہ خبر دشمنوں نے دی ہو گی
وہ آئے! آکے چلے بھی گئے، ملے بھی نہیں
یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں
ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں
ابھی سے میرے رفوگر کے ہاتھ تھکنے لگے
ابھی تو چاک مرے زخم کے سِلے بھی نہیں
خفا اگرچہ ہمیشہ ہُوئے مگر اب
وہ برہمی ہے کہ ہم سے انہیں گِلے بھی نہیں
پروین شاکر

رہتے ہیں ان کے گلے لگنے کے برسوں سے گلے

دیوان پنجم غزل 1756
عیدیں آئیں بارہا لیکن نہ وے آکر ملے
رہتے ہیں ان کے گلے لگنے کے برسوں سے گلے
اس زمانے کی تری سے لہر بہر اگلی کہاں
بے تہی کرنے لگے دریا دلوں کے حوصلے
غنچگی میں دیکھے ہیں صد رنگ جور آسماں
اب جو گل سا بکھرا ہوں دیکھوں کہ کیسا گل کھلے
سارے عالم کے حواس خمسہ میں ہے انتشار
ایک ہم تم ہی نہیں معلوم ہوتے دہ دلے
میر طے ہو گا بیابان محبت کس طرح
راہ ہے پرخار میرے پائوں میں ہیں آبلے
میر تقی میر

بدوضع یاں کے لڑکے کیا خوش معاملے ہیں

دیوان دوم غزل 901
دل لے کے کیسے کیسے جھگڑے مجادلے ہیں
بدوضع یاں کے لڑکے کیا خوش معاملے ہیں
گھبرانے لگتیاں ہیں رک رک کے تن میں جانیں
کرتے ہیں جو وفائیں ان ہی کے حوصلے ہیں
کیا قدر تھی سخن کی جب یاں بھی صحبتیں تھیں
ہر بات جائزہ ہے ہر بیت پر صلے ہیں
جب کچھ تھی جہت مجھ سے تب کس سے ملتے تھے تم
اطراف کے یہ بے تہ اب تم سے آملے ہیں
تھا واجب الترحم مظلوم عشق تھا میں
اس کشتۂ ستم کو تم سے بہت گلے ہیں
سوز دروں سے کیونکر میں آگ میں نہ لوٹوں
جوں شیشۂ حبابی سب دل پر آبلے ہیں
میں جی سنبھالتا ہوں وہ ہنس کے ٹالتا ہے
یاں مشکلیں ہیں ایسی واں یہ مساہلے ہیں
اندیشہ زاد رہ کا رکھیے تو ہے مناسب
چلنے کو یاں سے اکثر تیار قافلے ہیں
پانچوں حواس گم ہیں ہر اک کے اس سمیں میں
کیا میر جی ہی تنہا ان روزوں دہ دلے ہیں
میر تقی میر

آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 434
چاہتا ہوں کہیں ملے کوئی
آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی
رکھ گیا ہاتھ کی لکیروں میں
راستوں کے یہ سلسلے کوئی
میرے دل کا بھی بوجھ ہلکا ہو
میرے بھی تو سنے گلے کوئی
اس لئے میں بھٹکتا پھرتا ہوں
مجھ کو گلیوں میں ڈھونڈھ لے کوئی
کیا کروں ہجر کے جزیرے میں
لے گیا ساتھ حوصلے کوئی
اس کے آنے کی صرف افواہ پر
دیکھتا دل کے ولولے کوئی
یار آتا میرے علاقے میں
خیمہ زن ہوتے قافلے کوئی
گرمیٔ لمس کے مجھے منصور
بخش دے پھر سے آ بلے کوئی
منصور آفاق

مہکے ہوئے بدن کے ذرا حاشیے بھی دیکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 411
قوسِ قزح کے لکھے ہوئے تبصرے بھی دیکھ
مہکے ہوئے بدن کے ذرا حاشیے بھی دیکھ
رنگوں بھرے لباس کی مہکار پر نہ جا
میرے خیال و خواب کے ویراں کدے بھی دیکھ
تْو نے گرا دیا تھا فلک سے تو اب مجھے
بادِ صبا کے رنگ پہ چلتے ہوئے بھی دیکھ
دونوں طرف وجود ترا ہی کہیں نہ ہو
گردن ذرا گھما کے تُو کُن کے سرے بھی دیکھ
بے شک گلے لگا کے سمندر کو، رو مگر
ساحل کے پاس بنتے ہوئے بلبلے بھی دیکھ
ہر چند تارکول ہے پگھلی ہوئی تمام
میں بھی تو چل رہا ہوں سڑک پر، مجھے بھی دیکھ
سورج مرے قدم ہیں ستارے ہیں میری گرد
تسخیر کائنات کے یہ مرحلے بھی دیکھ
اک دلنواز خواب کی آمد کے آس پاس
آنکھوں میں جھلملاتے ہوئے قمقمے بھی دیکھ
کھینچی ہیں تم نے صرف لکیریں ہوا کے بیچ
بنتے ہوئے خطوط کے یہ زاویے بھی دیکھ
میں جل رہا ہوں تیز ہواؤں کے سامنے
اے شہرِ شب نژاد مرے حوصلے بھی دیکھ
منصور آفاق

محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 212
بڑی سست رفتاریوں سے بھلے چل
محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل
وہاں گھر ہے دریا جہاں ختم ہو گا
چلے چل کنارے کنارے چلے چل
خدا جانے کب پھر ملاقات ہو گی
ٹھہر مجھ سے جاتے ہوئے تو ملے چل
میں تیرے سہارے چلا جا رہا ہوں
ذرا اور ٹوٹے ہوئے حوصلے چل
نئے ساحلوں کے مسائل بڑے ہیں
تُو پچھلی زمیں کی دعا ساتھ لے چل
اکیلا نہ منصور رہ کیرواں میں
محبت کے چلنے لگے قافلے چل
منصور آفاق