ٹیگ کے محفوظات: حور

بڑا ہی دور سِر اَوج طور اُترا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
زمیں پہ جب بھی کبھی اُس کا نور اُترا ہے
بڑا ہی دور سِر اَوج طور اُترا ہے
جو پھوٹتا ہے کبھی تلخیوں کی شدّت سے
لہو کی تہ میں کچھ ایسا سرور اُترا ہے
مرے سکوں کا پیمبر اسی میں ہو شاید
ابھی ابھی لبِ دریا جو پُور اُترا ہے
رہا ہے ایک سا موسم نہ بادوباراں کا
چڑھا ہے جو بھی وہ دریا ضرور اُترا ہے
نگاہِ حرص لگی ہے اُسی پرندے پر
تلاشِ رزق میں ہو کر جو چُور اُترا ہے
سنی نہ ہم نے کبھی ایسی شاعری واعظ
سخن میں آپ کے کیا عکسِ حور اُترا ہے
تجھے بھی اہلِ ہوس پر کچھ اعتماد سا ہے
ترے بھی ذہن میں ماجدؔ فتور اُترا ہے
ماجد صدیقی

تم خود ہی منانے آؤ گے سرکار وہ دن بھی دور نہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 81
کیوں روٹھ کے مجھ سے کہتے ہو ملنا تجھ سے منظور نہیں
تم خود ہی منانے آؤ گے سرکار وہ دن بھی دور نہیں
تم روز جفا و جور کرو، نالے نہ سنو، تسکین نہ دو
ہم اس دنیا میں رہتے ہیں شکووں کا جہاں دستور نہیں
واپس جانا معیوب سا ہے جب میت کے ساتھ آئے ہو
دو چار قدم کی بات ہے بس، ایسی کوئی منزل دور نہیں
آزاد ہیں ہم تو اے زاہد ارمان و تمنا کیا جانیں
جنت کا تصور کون کرے جب دل میں خیالِ حور نہیں
میں شام سے لے جر تا بہ سحر دل میں یہ کہتا رہتا ہوں
ہے چاند بے شک نور قمر لیکن ان کا سا نور نہیں
قمر جلالوی

قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 194
منظورتھی یہ شکل تجلّی کو نور کی
قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
اِک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں
پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
واعظ! نہ تم پیو نہ کسی کو پلاسکو
کیا بات ہے تمہاری شرابِ طہور کی!
لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اٹھا؟
گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
گو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سےِان بتوں کو بھی نسبت ہے د ور کی
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
گرمی سہی کلام میں، لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی
غالب گر اِس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
مرزا اسد اللہ خان غالب

پھر چھپا خور سا اپنے نور سے وہ

دیوان ششم غزل 1871
نظر آیا تھا صبح دور سے وہ
پھر چھپا خور سا اپنے نور سے وہ
جز برادر عزیز یوسف کو
نہیں لکھتا کبھو غرور سے وہ
دیکھیں عاشق کا جی بھی ہے کہ نہیں
تنگ ہے جان ناصبور سے وہ
کیا تصور میں پھیرے ہے صورت
کہ سرکتا نہیں حضور سے وہ
خوبی اس خوبی سے بشر میں کہاں
خوب تر ہے پری و حور سے وہ
دل لیا جس غمیں کا تونے شوخ
دے گیا جی ہی اک سرور سے وہ
خوش ہیں دیوانگی میر سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ
میر تقی میر

کیوں کر کہیے بہشتی رو ہے اس خوبی سے حور نہیں

دیوان چہارم غزل 1465
کس سے مشابہ کیجے اس کو ماہ میں ویسا نور نہیں
کیوں کر کہیے بہشتی رو ہے اس خوبی سے حور نہیں
شعر ہمارے عالم کے ہر چار طرف کیا دوڑے ہیں
کس وادی آبادی میں یہ حرف و سخن مشہور نہیں
ہم دیکھیں تو دیکھیں اسے پھر پردہ بہتر ہے یعنی
اور کریں نظارہ اس کا ہم کو یہ منظور نہیں
عزت اپنی تہی دستی میں رکھ لی خدا نے ہزاروں شکر
قدر ہے دست قدرت سے یاں حیف ہمیں مقدور نہیں
راہ دور عدم سے آئے بستی جان کے دنیا میں
سویاں گھر اوجڑ ہیں سارے اک منزل معمور نہیں
عشق و جنوں سے اگرچہ تن پر ضعف و نحافت ہے لیکن
وحشت گو ہو عرصۂ محشر مجنوں سے رنجور نہیں
ہجراں میں بھی برسوں ہم نے میر کیا ہے پاس وفا
اب جو کبھو ٹک پاس بلا لے ہم کو وہ تو دور نہیں
میر تقی میر

شور سا ہے تو ولیکن دور کا

دیوان دوم غزل 682
غم ابھی کیا محشر مشہور کا
شور سا ہے تو ولیکن دور کا
حق تو سب کچھ ہی ہے تو ناحق نہ بول
بات کہتے سر کٹا منصور کا
بیچ سے کب کا گیا اب ذکر کیا
اس دل مرحوم کا مغفور کا
طرفہ آتش خیز سنگستاں ہے دل
مقتبس یاں سے ہے شعلہ طور کا
مر گئے پر خاک ہے سب کبر و ناز
مت جھکو سر گو کسو مغرور کا
ٹھیکری کو قدر ہے اس کو نہیں
ٹوٹے جب کاسہ سر فغفور کا
ہو کھڑا وہ تو پری سی ہے کھڑی
منھ کھلے تو جیسے چہرہ حور کا
دیکھ اسے کیونکر ملک بھیچک نہ ہوں
آنکھ کے آگے یہ بکّا نور کا
چشم بہنے سے کبھو رہتی نہیں
کچھ علاج اے میر اس ناسور کا
میر تقی میر

ویسا ہے پھول فرض کیا حور کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 398
ایسا ہے ماہ گو کہ وہ سب نور کیوں نہ ہو
ویسا ہے پھول فرض کیا حور کیوں نہ ہو
کھویا ہمارے ہاتھ سے آئینے نے اسے
ایسا جو پاوے آپ کو مغرور کیوں نہ ہو
حق برطرف ہے منکر دیدار یار کے
جو شخص ہووے آنکھوں سے معذور کیوں نہ ہو
گیسوے مشک بو کو اسے ضد ہے کھولنا
پھر زخم دل فگاروں کا ناسور کیوں نہ ہو
صورت تو تیری صفحۂ خاطر پہ نقش ہے
ظاہر میں اب ہزار تو مستور کیوں نہ ہو
صافی شست سے ہے غرض مشق تیر سے
سینہ کسو کا خانۂ زنبور کیوں نہ ہو
مجنوں جو دشت گرد تھا ہم شہر گرد ہیں
آوارگی ہماری بھی مذکور کیوں نہ ہو
تلوار کھینچتا ہے وہ اکثر نشے کے بیچ
زخمی جو اس کے ہاتھ کا ہو چور کیوں نہ ہو
خالی نہیں بغل کوئی دیوان سے مرے
افسانہ عشق کا ہے یہ مشہور کیوں نہ ہو
مجھ کو تو یہ قبول ہوا عشق میں کہ میر
پاس اس کے جب گیا تو کہا دور کیوں نہ ہو
میر تقی میر

مرے سرمد کی رعنائی ، مرے منصور کا چہرہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 420
دکھائی دے نگاہوں کو چراغِ طور کا چہرہ
مرے سرمد کی رعنائی ، مرے منصور کا چہرہ
مسلسل ابر وباراں میں کئی صدیاں گزار آئیں
دمشقِ صبح کی آنکھیں ، فراتِ نور کا چہرہ
جنابِ شیخ کو غلمان کی آنکھیں پسند آئیں
مجھے اچھا لگا اک کھکھلاتی حور کا چہرہ
مری تہذیب کا نغمہ ، اذاں میرے تمدن کی
یہی میلاد کی آنکھیں یہی عاشور کا چہرہ
اندھیری رات سے اُس زلف کوتشبیہ کیسے دوں
بھرا ہے غم کی کالک سے شبِ دیجور کا چہرہ
سنو جنت کے پھولوں سے کہیں بڑھ کر ہے پاکیزہ
کڑکتی دھوپ میں کھلتا ہوا مزدور کا چہرہ
ستم ہے لوگ پاکستان کہتے ہیں اسے منصور
بدلتاہے جہاں اقدار کا دستور کا چہرہ
منصور آفاق