ٹیگ کے محفوظات: حمایت

درد ہے، درد بھی قیامت کا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 5
پوچھتے کیا ہو دل کی حالت کا؟
درد ہے، درد بھی قیامت کا
یار، نشتر تو سب کے ہاتھ میں ہے
کوئی ماہر بھی ہے جراحت کا؟
اک نظر کیا اٹھی، کہ اس دل پر
آج تک بوجھ ہے مروّت کا
دل نے کیا سوچ کر کیا آخر
فیصلہ عقل کی حمایت کا
کوئی مجھ سے مکالمہ بھی کرے
میں بھی کردار ہوں حکایت کا
آپ سے نبھ نہیں رہی اِس کی؟
قتل کردیجیئے روایت کا
نہیں کُھلتا یہ رشتہِٗ باہم
گفتگو کا ہے یا وضاحت کا؟
تیری ہر بات مان لیتا ہوں
یہ بھی انداز ہے شکایت کا
دیر مت کیجیئے جناب، کہ وقت
اب زیادہ نہیں عیادت کا
بے سخن ساتھ کیا نباہتے ہم؟
شکریہ ہجر کی سہولت کا
کسرِ نفسی سے کام مت لیجے
بھائی یہ دور ہے رعونت کا
مسئلہ میری زندگی کا نہیں
مسئلہ ہے مری طبیعت کا
درد اشعار میں ڈھلا ہی نہیں
فائدہ کیا ہوا ریاضت کا؟
آپ مجھ کو معاف ہی رکھیئے
میں کھلاڑی نہیں سیاست کا
رات بھی دن کو سوچتے گزری
کیا بنا خواب کی رعایت کا؟
رشک جس پر سلیقہ مند کریں
دیکھ احوال میری وحشت کا
صبح سے شام تک دراز ہے اب
سلسلہ رنجِ بے نہایت کا
وہ نہیں قابلِ معافی، مگر
کیا کروں میں بھی اپنی عادت کا
اہلِ آسودگی کہاں جانیں
مرتبہ درد کی فضیلت کا
اُس کا دامن کہیں سے ہاتھ آئے
آنکھ پر بار ہے امانت کا
اک تماشا ہے دیکھنے والا
آئینے سے مری رقابت کا
دل میں ہر درد کی ہے گنجائش
میں بھی مالک ہوں کیسی دولت کا
ایک تو جبر اختیار کا ہے
اور اک جبر ہے مشیّت کا
پھیلتا جا رہا ہے ابرِ سیاہ
خود نمائی کی اِس نحوست کا
جز تری یاد کوئی کام نہیں
کام ویسے بھی تھا یہ فرصت کا
سانحہ زندگی کا سب سے شدید
واقعہ تھا بس ایک ساعت کا
ایک دھوکہ ہے زندگی عرفان
مت گماں اِس پہ کر حقیقت کا
عرفان ستار

نیند آنے لگی ہے فرقت میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 101
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
نیند آنے لگی ہے فرقت میں
ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر
سوچتا ہوں تیری حمایت میں
روح نے عشق کا فریب دیا
جسم کا جسم کی عداوت میں
اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
روح شامل نہیں شکایت میں
عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں
چیختا ہوں بدن کی عسرت میں
یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم
روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں
وہ جو تعمیر ہونے والی تھی
لگا گئی آگ اس عمارت میں
اپنے حجرہ کا کیا بیاں کہ یہاں
خون تھوکا گیا شرارت میں
وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں
اس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں
زندگی کس طرح بسر ہو گی
دل نہیں لگ رہا محبت میں
حاصلِ ’’کُن‘‘ ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
پھر بنایا خدا نے آدم کو
اپنی صورت پہ، ایسی صورت میں
اور پھر آدمی نے غور کیا
چھپکلی کی لطیف صنعت میں
اے خدا (جو کہیں نہیں موجود)
کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں؟
جون ایلیا

کُھلے بھی تو زنجیر در کی رعایت کے ساتھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 45
سخی ہے وہ لیکن ذرا سی کفایت کے ساتھ
کُھلے بھی تو زنجیر در کی رعایت کے ساتھ
چلوں سیرِ فردا پہ نکلوں کہ شاعر ہوں میں
بندھا کیوں رہوں اپنی کہنہ روایت کے ساتھ
یہی ہے کہ اثبات نفی سے مشروط ہے
نبھے دوستی بھی عُدو کی حمایت کے ساتھ
مجھے تو یہ تکرار وعدہ بھی اچھی لگے
یہ دیکھو! میں پھر آ گیا ہوں شکایت کے ساتھ
یہ تاوان انبوہ لیتا تو ہے فرد سے
کہ چلنا پڑے دوسروں کی ہدایت کے ساتھ
آفتاب اقبال شمیم

کہ یہ عالم ترے ہونے کی بدولت ہی تو ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 329
نبضِ عالم میں رواں تیری حرارت ہی تو ہے
کہ یہ عالم ترے ہونے کی بدولت ہی تو ہے
تیرے ہی پیک ہیں سب سچے صحیفوں والے
ان کا آنا ترے آنے کی بشارت ہی تو ہے
ہم تو اک دھوپ کا صحرا تھے جہاں اوس نہ پھول
ہم پہ برسا یہ ترا ابر عنایت ہی تو ہے
پیش کرتا ہے یہی داورِ محشر کے حضور
میرا سرمایہ ترے نام سے نسبت ہی تو ہے
اس فقیری میں کبھی سر نہیں جھکنے پاتا
میرا تکیہ ترا بازوئے حمایت ہی تو ہے
میں بھی گریاں ہوں اسی چوبِ شجر کی مانند
جس میں بھی جاگ اٹھے دردِ محبت ہی تو ہے
عرفان صدیقی