ٹیگ کے محفوظات: حل

جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 111
ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے
جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے
اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں
مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے
کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں
کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے
شائستگیِ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا
نمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتے
کیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزمِ جاں میں
کچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتے
عشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھی
پاگل تو نظر آتے ہیں پاگل نہیں ہوتے
سب خواہشیں پوری ہوں فراز ایسا نہیں ہے
جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے
احمد فراز

یعنی منصوبہ زمانے کا مکمل ہو گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 55
اک فنا کے گھاٹ اُترا، ایک پاگل ہو گیا
یعنی منصوبہ زمانے کا مکمل ہو گیا
جسم کے برفاب میں آنکھیں چمکتی ہیں ابھی
کون کہتا ہے اُس کا حوصلہ شل ہو گیا
ذہن پر بے سمتیوں کی بارشیں اتنی ہوئیں
یہ علاقہ تو گھنے راستوں کا جنگل ہو گیا
اس کلید اسم نا معلوم سے کیسے کُھلے
دل کا دروازہ کہ اندر سے مقفل ہو گیا
شعلہ زار گُل سے گزرے تو سرِ آغاز ہی
اک شرر آنکھوں سے اُترا، خون میں حل ہو گیا
شہر آئندہ کا دریا ہے گرفت ریگ میں
بس کہ جو ہونا ہے، اُسکا فیصلہ کل ہو گیا
موسمِ خیراتِگُل آتا ہے کس کے نام پر
کون ہے جس کا لہو اِس خاک میں حل ہو گیا
اس قدر خوابوں کو مسلا پائے آہن پوش نے
شوق کا آئین بالآخر معطل ہو گیا
آفتاب اقبال شمیم

میں عجب عقدۂ دشوار کو حل کر آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 60
زندہ رہنا تھا سو جاں نذرِ اجل کر آیا
میں عجب عقدۂ دشوار کو حل کر آیا
میں نے کی تھی صفِ اعدا سے مبارز طلبی
تیر لیکن صفِ یاراں سے نکل کر آیا
تو نے کیا سوچ کے اس شاخ پہ وارا تھا مجھے
دیکھ میں پیرہن برگ بدل کر آیا
یہ ہوس ہو کہ محبت ہو، مگر چہرے پر
اک نیا رنگ اسی آگ میں جل کر آیا
عرفان صدیقی

نہیں ہے اور کہ میرا نہیں بدل کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 433
مجھ ایسا غیر پسندیدہ بے محل کوئی
نہیں ہے اور کہ میرا نہیں بدل کوئی
گزار اعمرنہ سنجیدگی کے صحرا میں
ضروری ہے تری محفل میں بیربل کوئی
پھٹی ہوئی کسی چادر سے ڈھانپ دیتے ہیں
تلاش کرتے نہیں مسئلے کا حل کوئی
فنانژاد علاقہ ہے میری مٹی کا
نکال سکتا نہیں خاک سے اجل کوئی
یہ پوچھتا تھا کوئی اور بھی ہے میرے سوا
ملاتھا دشتِ جنوں میں مجھے پنل کوئی
اسی جریدۂ کون و مکاں کی سطروں میں
چھپی ہوئی ہے مرے واسطے غزل کوئی
نجانے کون شہادت سے سرفراز ہوا
کنارِ چشمۂ کوثر بنا محل کوئی
ٹھہر گیا ہے ستم ناک وقت میرے لئے
یا کائنات کی گردش میں ہے خلل کوئی
مری شکست کے اسباب پوچھتے کیا ہو
ہے کھیل ہی کے قواعد گیا بدل کوئی
اجل حیات کا پہلا سرا نہیں منصور
مراجعت کی مسافت کا ہے عمل کوئی
منصور آفاق

شاید مرا جمال مکمل نہیں ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 69
اب تک انا سے ربطِ مسلسل نہیں ہوا
شاید مرا جمال مکمل نہیں ہوا
وحشت وہی مزاج کی رونے کے بعد بھی
بارش ہوئی ہے شہر میں جل تھل نہیں ہوا
پھر ہو گی تجھ تلک مری اپروچ بزم میں
مایوس جانِ من ترا پاگل نہیں ہوا
ممکن نہیں ہے جس کا ذرا سا مشاہدہ
میری نظر سے وہ کبھی اوجھل نہیں ہوا
ہر چیز آشنائے تغیر ہوئی مگر
قانونِ ہست و بود معطل نہیں ہوا
دستِ اجل نے کی ہے تگ و دو بڑی مگر
دروازۂ حیات مقفل نہیں ہوا
برسوں سے ڈھونڈتا ہوں کوئی اور شخص میں
اِس ہجر کا معمہ کبھی حل نہیں ہوا
منصور اپنی ذات شکستہ کیے بغیر
پانی کا بلبلا کبھی بادل نہیں ہوا
منصور آفاق