ٹیگ کے محفوظات: حق

سوز دروں سے نامہ کباب ورق ہوا

دیوان دوم غزل 740
ہنگام شرح غم جگر خامہ شق ہوا
سوز دروں سے نامہ کباب ورق ہوا
بندہ خدا ہے پھر تو اگر گذرے آپ سے
مرتا ہے جو کوئی اسے کہتے ہیں حق ہوا
دل میں رہا نہ کچھ تو کیا ہم نے ضبط شوق
یہ شہر جب تمام لٹا تب نسق ہوا
وہ رنگ وہ روش وہ طرح سب گئی بباد
آتے ہی تیرے باغ میں منھ گل کا فق ہوا
برسوں تری گلی میں چمن ساز جو رہا
سو دیدہ اب گداختہ ہوکر شفق ہوا
لے کر زمیں سے تابہ فلک رک گیا ہے آہ
کس دردمندعشق کو یارب قلق ہوا
اس نو ورق میں میر جو تھا شرح و بسط سے
بیٹھا جو دب کے میں تو ترا اک سبق ہوا
میر تقی میر

سب اصل کی نقلیں ہیں ، ذہنوں کے ورق دیکھو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 31
کیا معجزہ کرتے ہیں ، آلاتِ صدا اُن کے
سب اصل کی نقلیں ہیں ، ذہنوں کے ورق دیکھو
سچائی کا لفظ آئے لب پر کبھی بھُولے سے
پھر چہرۂ دنیا کو ہوتے ہوئے فق دیکھو
زنجیر اُتروا دیں دروازوں کی مستک سے
کب شہر مکینوں کو ملتا ہے یہ حق دیکھو
کیا جانئے کیا ہووے معیار نئے دن کا
تا شام بُھلا ڈالو صبح جو سبق دیکھو
سینہ شبِ ظلمت کا، انوار سے شق دیکھو
ہاں مطلع خواہش پر خوابوں کی شفق دیکھو
وعدے کی کرن چمکی امکان کی دوری سے
روشن تو ہوئے کچھ کچھ تاریک طبق دیکھو
آفتاب اقبال شمیم

علم بس عشق کے سبق پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 613
آنکھ کے قطرۂ عرق پر ہے
علم بس عشق کے سبق پر ہے
منزلِ ہجر سے ذرا آگے
اپنا گھر چشمۂ قلق پر ہے
کوئی آیا ہے میرے آنگن میں
ابر صحرائے لق و دق پر ہے
ایک ہی نام ایک ہی تاریخ
ڈائری کے ورق ورق پر ہے
شامِ غم کے نگار خانے میں
زخم پھیلا ہوا شفق پر ہے
سن رہا ہوں کہ میرے ہونے کی
روشنی چودھویں طبق پر ہے
دیکھ کر کارِ امت شبیر
لگ رہا ہے یزید حق پر ہے
منصور آفاق

زمیں اللہ کی ہے اور سب کا حق برابر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 612
دریچوں پر اذانِ وقت کی دستک برابر ہے
زمیں اللہ کی ہے اور سب کا حق برابر ہے
خدا پر رزق کی تقسیم کا الزام صدیوں سے
مساواتِ محمد میں مقدر تک برابر ہے
جہاں ہم خود نہیں رہتے وہ گھر اپنا نہیں ہوتا
کرایہ خاک کا اور سود کی کالک برابر ہے
تمہیں اے صاحبانِ زر ،ہے دوزخ کی وعیدِ خاص
ڈرو۔دنیا میں بھی اس کی پکڑبے شک برابر ہے
کبھی گزرے نہ وہ تجھ پرجوگزری مجھ پہ سوگزری
قیامت ہجر کی اورموت کی ٹھنڈک برابر ہے
مجھے لگتا ہے تم سوئے نہیں ہو رات بھر منصور
تمہاری چار پائی پر پڑی اجرک برابر ہے
منصور آفاق

حق

چن تے جاون والیو لوکو

چن توں مڑ کے

ایس دھرتی دے

بھکھیاں ننگیاں دے گل

چن دی خاک دے ائی تعویذ

مرھا کے پا دیو

اوڑک تساں اتے

ایس مخلوق دا وی تے

حق بندا اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)