ٹیگ کے محفوظات: حر

وُہ نغمہ زار اس آواز کے بنجر سے آگے ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 76
خیالوں کا نگر، اُجڑے ہوئے منظر سے آگے ہے
وُہ نغمہ زار اس آواز کے بنجر سے آگے ہے
نفس ۔ اک موجِ کم آواز ہے لیکن روانی میں
لہو کی ٹہنیوں کو کاٹتی حر حر سے آگے ہے
کبھی بیگانگی کا فاصلہ طے ہو نہیں پایا
ہمارے ساتھ کا گھر بھی ہمارے گھر سے آگے ہے
وہ خواب افروز منظر چشم و دل کی سیر گاہوں کا
ابھی آگے ہے اِس اقلیمِ زور و زر سے آگے ہے
کبھی حیرت، فصیل لفظ توڑے تو خبر آئے
کہ معنی کا جہاں الفاظ کی کشور سے آگے ہے
ابھی یہ ریزہ ریزہ روشنی مٹی میں گرنے دے
نمو کا مرحلہ آنکھوں کی خاکستر سے آگے ہے
آفتاب اقبال شمیم

ہم دیدئہ حیرت ہیں ، تحیر کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 364
سورج پہ گلابوں کے تصور کی طرح ہیں
ہم دیدئہ حیرت ہیں ، تحیر کی طرح ہیں
چھیڑو نہ ہمیں دوستو پھر تھم نہ سکیں گے
ملہار کے ہم بھیگے ہوئے سُر کی طرح ہیں
صد شکر کہ سینے میں دھڑکتا ہے ابھی دل
ہم کفر کے لشکر میں سہی حر کی طرح ہیں
بجھ جاتا ہے سورج کا ہمیں دیکھ کے چہرہ
ہم شام کے آزردہ تاثر کی طرح ہیں
ہر دور میں شاداب ہیں سر سبز ہیں منصور
وہ لوگ جو موسم کے تغیر کی طرح ہیں
منصور آفاق