ٹیگ کے محفوظات: حرارت

غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی

دیوان اول غزل 445
خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی
غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی
نگاہ مست سے جب چشم نے اس کی اشارت کی
حلاوت مے کی اور بنیاد میخانے کی غارت کی
سحرگہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا
پڑے تھے باغ میں یک مشت پر اودھر اشارت کی
جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم
اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی
نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب مہ میں
گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی
نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھر اس کو کیا سوجھے
حقیقت کچھ نہ پوچھو پیرکنعاں کی بصارت کی
ترے کوچے کے شوق طوف میں جیسے بگولا تھا
بیاباں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی
میر تقی میر

ترے لہو کی تڑپتی ہوئی حرارت ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 81
وہ شے جو ایک نئے دور کی بشارت ہے
ترے لہو کی تڑپتی ہوئی حرارت ہے
نظامِ کہنہ کے سائے میں عافیت سے نہ بیٹھ
نظامِ کہنہ تو گرتی ہوئی عمارت ہے
وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
یہ تیرے جسم، تری روح سے عبارت ہے
یہ کہہ رہی ہے صدا ٹوٹتے سلاسل کی
کہ زندگی تو فقط اک حسیں جسارت ہے
یہ اک جھلک ہے بدلتے ہوئے زمانوں کی
جبیں جبیں پہ شکن بھی کوئی بجھارت ہے
چمن میں اہلِ چمن کے یہ طور، ارے توبہ
کلی کلی کی ہنسی خندۂ حقارت ہے
دلوں کی جھونپڑیوں میں بھی روشنی اترے
جو یوں نہیں تو یہ سب سیلِ نور اکارت ہے
مجید امجد

کچھ کہو وہ رت بدلنے پر پلٹ جانے کی عادت کیا ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 444
آب و دانہ کے لئے آئے پرندویہ سکونت کیا ہوئی
کچھ کہو وہ رت بدلنے پر پلٹ جانے کی عادت کیا ہوئی
چند دن وہ ساحلوں پر رکنے والے کیا ہوئے بحری جہاز
دور دیسوں کے سفر سے لوٹ آنے کی روایت کیا ہوئی
دیکھنے آئے تھے ہم کافر تو حسنِ کافرانہ کو مگر
اس گنہ آباد بستی میں مسلمانوں کی ہجرت کیا ہوئی
ساحلوں پر ڈوبتے سورج پہ اتری ہے کوئی پیتل کی کونج
سیپیاں چنتی ہوئی سر گرم کرنوں کی حرارت کیا ہوئی
ہو گئی بچی کی چھاتی تو سلگتے سگریٹوں سے داغ داغ
وہ جو آنی تھی زمیں پر آسمانوں سے قیامت کیا ہوئی
کیا ہوا وہ جنگ سے اجڑاہوابچوں بھرا منصورپارک
وہ کتابوں سے بھری تہذیب کی روشن عمارت کیا ہوئی
منصور آفاق