ٹیگ کے محفوظات: حجابی

نہال سبز جھومے ہیں گلستاں میں شرابی سے

دیوان دوم غزل 975
بہار آئی ہے غنچے گل کے نکلے ہیں گلابی سے
نہال سبز جھومے ہیں گلستاں میں شرابی سے
گروں ہوں ہر قدم پر میں ڈھہا جاتا ہے جی ہر دم
پہنچتا ہوں کبھو در پر ترے سو اس خرابی سے
نہ ٹھہری ایک چشمک بھی بسان برق آنکھوں میں
کلیجہ جل گیا اے عمر تیری تو شتابی سے
نکل آتے ہو گھر سے چاند سے یہ کیا طرح پکڑی
قیامت ہورہے گی ایک دن اس بے حجابی سے
یہ جھگڑا تنگ آ کر میں رکھا روزشمار اوپر
کروں کیا تم تو لڑنے لگتے ہو حرف حسابی سے
بہت رویا نوشتے پر میں اپنے دیکھ قاصد کو
کہ سر ڈالے غریب آتا تھا خط کی بے جوابی سے
مبادا کارواں جاتا رہے تو صبح سوتا ہو
بہت ڈرتا ہوں میں اے میر تیری دیر خوابی سے
میر تقی میر

دل پر خوں کی اک گلابی سے

دیوان اول غزل 617
عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دل پر خوں کی اک گلابی سے
جی ڈھہا جائے ہے سحر سے آہ
رات گذرے گی کس خرابی سے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
برقع اٹھتے ہی چاند سا نکلا
داغ ہوں اس کی بے حجابی سے
کام تھے عشق میں بہت پر میر
ہم ہیں فارغ ہوئے شتابی سے
میر تقی میر

لطف تو آئے مگر سخت خرابی ہووے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 66
عکسِ رخسار سے جب آنکھ گلابی ہووے
لطف تو آئے مگر سخت خرابی ہووے
ایک دُوری ہے جو کٹتی ہی نہیں قربت سے
بے حجابی بھی حقیقت میں حجابی ہووے
ہم کہ چلتی ہوئی راہوں کے مسافر ٹھہرے
دوستو! اگلی ملاقات شتابی ہووے
آنکھ بھر دیکھ تو لوں اُس کو مگر سوچتا ہوں
زندگی بھر کے لئے کون شرابی ہووے
بحر زادہ ہوں، کسی روز تو اے میرے خدا!
یہ ٹھکانا مرا صحرائی سے آبی ہووے
آفتاب اقبال شمیم

لطف تو آئے مگر سخت خرابی ہووے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 46
عکسِ رخسار سے جب آنکھ گلابی ہووے
لطف تو آئے مگر سخت خرابی ہووے
ایک دُوری ہے جو کٹتی ہی نہیں قربت سے
بے حجابی بھی حقیقت میں حجابی ہووے
ہم کہ چلتی ہوئی راہوں کے مسافر ٹھہرے
دوستو! اگلی ملاقات شتابی ہووے
آنکھ بھر دیکھ تو لوں اُس کو مگر سوچتا ہوں
زندگی بھر کے لئے کون شرابی ہووے
بحر زادہ ہوں، کسی روز تو اے میرے خدا!
یہ ٹھکانا مرا صحرائی سے آبی ہووے
آفتاب اقبال شمیم

ہماری خاک میں کوئی خرابی رہ گئی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 336
فلک پہ جاتی ہوئی ماہتابی رہ گئی ہے
ہماری خاک میں کوئی خرابی رہ گئی ہے
بس اب کے اس کی نگاہِ دگر پہ فیصلہ ہے
میں گم تو ہوچکا ہوں بازیابی رہ گئی ہے
چمک گیا تھا کبھی بندِ پیرہن اس کا
بدن سے لپٹی ہوئی بے حجابی رہ گئی ہے
غبارِ شب کے ادھر کچھ نہ کچھ تو ہے روشن
میں جاگتا ہوں ذرا نیم خوابی رہ گئی ہے
سمیٹنا ہی تو ہے ساز و برگِ خانۂ دل
اس ایک کام میں اب کیا شتابی رہ گئی ہے
عرفان صدیقی