ٹیگ کے محفوظات: حبس

جو شخص ساتھ نہیں اسکا عکس باقی ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 151
نئے سفر میں ابھی ایک نقص باقی ہے
جو شخص ساتھ نہیں اسکا عکس باقی ہے
اٹھا کے لے گئے دزدان شب چراغ تلک
سو، کور چشم پتنگوں کا رقص باقی ہے
گھٹا اٹھی ہے مگر ٹوٹ کر نہیں برسی
ہوا چلی ہے مگر پھر بھی حبس باقی ہے
الٹ پلٹ گئی دنیا وہ زلزلے آئے
مگر خرابۂ دل میں وہ شخص باقی ہے
فراز آئے ہو تم اب رفیق شب کے لئے
کہ دور جام نا ہنگام رقص باقی ہے
احمد فراز

میری نمو ، میرے ہی جیسے شخص میں ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 122
خوشبو کی ترتیب ، ہَوا کے رقص میں ہے
میری نمو ، میرے ہی جیسے شخص میں ہے
وہ میرا تن چُھوئے ، من میں شعر اُگائے
پیڑ کی ہریالی بارش کے لمس میں ہے
سوچ کا رشتہ سانس سے ٹوٹا جاتا ہے
لُو سے زیادہ جبر فضا کے حبس میں ہے
دن میں کیسی لگتی ہو گی ، سوچتی ہوں
ندی کا سارا حُسن تو چاند کے عکس میں ہے
میری اچھائی تو سب کو اچھّی لگی
اُس کے پیار کا مرکز میرے نقص میں ہے
ایسی خالی نسل کے خواب ہی کیا ہوں گے
جس کی نیند کا سَر چشمہ ہی چرس میں ہے!
پروین شاکر