ٹیگ کے محفوظات: حامی

ہزار حیف کمینوں کا چرخ حامی ہے

دیوان اول غزل 580
رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہے
ہزار حیف کمینوں کا چرخ حامی ہے
نہ اٹھ تو گھر سے اگر چاہتا ہے ہوں مشہور
نگیں جو بیٹھا ہے گڑ کر تو کیسا نامی ہے
ہوئی ہیں فکریں پریشان میر یاروں کی
حواس خمسہ کرے جمع سو نظامی ہے
میر تقی میر

روشنی لکھتی ہے اسمائے گرامی تیرے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 268
سب لقب پاک ہیں سب نام ہیں نامی تیرے
روشنی لکھتی ہے اسمائے گرامی تیرے
حرف حق تیرے حوالے سے اجالے کا سراغ
لفظ پائندہ ترے‘ نقش دوامی تیرے
اذن معبود کا مقصود بھی نصرت تیری
مصحف نور کے آیات بھی حامی تیرے
سب ستارہ نظراں‘ خوش ہنراں‘ چارہ گراں
پیک تیرے‘ سفری تیرے‘ پیامی تیرے
بے اماں قریوں پہ دائم تیری رحمت کا نزول
حبشی تیرے‘ حجازی ترے‘ شامی تیرے
تو غزالوں کو کمندوں سے بچانے والا
سارے سلطان غلامانِ قیامی تیرے
کشت سرسبز ترے فیض کی ہریالی سے
دشت میں نخلِ نمودار تمامی تیرے
میرے الفاظ فقط عجز بیاں کا اقرار
کعب و حسان ترے، سعدی و جامی تیرے
نوریاں مدح سرا خاک نہادوں کی مثال
کہیں محسن‘ کہیں جبریل سلامی تیرے
سب تری مملکت جود و کرم میں آباد
حکم نافذ مرے قوسین مقامی تیرے
عرفان صدیقی