ٹیگ کے محفوظات: حاصل

بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 278
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے
بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہ
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
بس ہجومِ نا امیدی خاک میں مل جائے گی
یہ جو اک لذّت ہماری سعئِ بے حاصل میں ہے
رنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہے
اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہی
فتنۂ شورِ قیامت کس کی آب و گِل میں ہے
ہے دلِ شوریدۂ غالب طلسمِ پیچ و تاب
رحم کر اپنی تمنّا پر کہ کس مشکل میں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 104
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لیے ہوئے
ہوں شمعِ کشتہ درخورِ محفل نہیں رہا
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایانِ دست و خنجرِ قاتل نہیں رہا
بر روئے شش جہت درِ آئینہ باز ہے
یاں امتیازِ ناقص و کامل نہیں رہا
وا کر دیے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
گو میں رہا رہینِ ستم ہاے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
دل سے ہوائے کشتِ وفا مٹ گئی کہ واں
حاصل سواے حسرتِ حاصل نہیں رہا
بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
مرزا اسد اللہ خان غالب

عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 78
سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی
جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

میری خوں ریزی ہی کا مائل ہے

دیوان پنجم غزل 1772
سخت بے رحم آہ قاتل ہے
میری خوں ریزی ہی کا مائل ہے
دور مجنوں کا ہو گیا آخر
یاں جنوں کا ابھی اوائل ہے
نکلے اس راہ کس طرح وہ ماہ
نہ تو طالع نہ جذب کامل ہے
مثل صورت ہیں جلوہ کے حیراں
ہائے کیا شکل کیا شمائل ہے
ہاتھ رکھ لیوے تو کہے کہ بس اب
کیا جیے گا بہت یہ گھائل ہے
حق میں اس بت کے بد کہیں کیونکر
وہ ہمارا خداے باطل ہے
سچ ہے راحت تو بعد مرنے کے
پر بڑا واقعہ یہ ہائل ہے
تیغ اگر درمیاں رہے تو رہے
یار میرا جوان جاہل ہے
رو نہیں چشم تر سے اب رکھیے
سیل اسی در کا کب سے سائل ہے
حال ہم ڈوبتوں کا کیا جانے
جس کو دریا پہ سیر ساحل ہے
میر کب تک بحال مرگ جئیں
کچھ بھی اس زندگی کا حاصل ہے
میر تقی میر

یوں بے دم ہے اب پہلو میں جوں صید بسمل ہے دل

دیوان چہارم غزل 1425
عشق کی چوٹیں پے درپے جو اٹھائی گئیں گھائل ہے دل
یوں بے دم ہے اب پہلو میں جوں صید بسمل ہے دل
خون ہوا ہے چاک ہوا ہے جلتے جلتے داغ ہوا
خواہش اس کو کیا ہے بارے کس کے لیے بیدل ہے دل
عشق کی بجلی آ کے گری سو داغ ہوا ہے سر تا سر
کیا رووے جوں ابر کوئی اس مزرع کا حاصل ہے دل
یوں تو گرہ سینے میں ہمارے درد و غم کی ہوکے رہا
کس سے ظاہر کرتے جاکر کام بہت مشکل ہے دل
آنکھوں کی دیکھا دیکھی ہرگز دل کو اس سے نہ لگنا تھا
جیسی سزا پہنچاوے کوئی اب اس کے قابل ہے دل
عمر انساں راہ تو ہے تشویش سے طے ہوتی ہے ولے
دل کے تئیں پہنچے جو کوئی چین کی پھر منزل ہے دل
شہد لب سے اس کے چپکا جی کا صرفہ کچھ نہ کیا
میر جو دیکھا اپنے حق میں کیا زہر قاتل ہے دل
میر تقی میر

ترا اے برق خاطف اس طرف گرنا ہے لاحاصل

دیوان سوم غزل 1165
نہ خوشہ یاں نہ دانہ یاں جلانا گھاس کیا حاصل
ترا اے برق خاطف اس طرف گرنا ہے لاحاصل
سکندر ہو کے مالک سات اقلیموں کا آخر کو
گیا دست تہی لے یاں سے یہ کچھ کر گیا حاصل
بلا قحط مروت ہے کہ ہے محصول غلے پر
کہیں سے چار دانے لائو لیویں جابجا حاصل
نہ کھینچیں کیونکے نقصاں ہم تو قیدی ہیں تعین کے
خودی سے کوئی نکلے تو اسے ہووے خدا حاصل
عبارت خوب لکھی شاعری انشاطرازی کی
ولے مطلب ہے گم دیکھیں تو کب ہو مدعا حاصل
بہت مصروف کشت و کار تھے مزرع میں دنیا کے
اٹھا حسرت سے ہاتھ آخر ہمیں یہ کچھ ہوا حاصل
پھرا مت میر سر اپنا گراں گوشوں کی مجلس میں
سنے کوئی تو کچھ کہیے بھی اس کہنے کا کیا حاصل
میر تقی میر

ایسے ناداں دلربا کے ملنے کا حاصل ہے کیا

دیوان سوم غزل 1059
دل اگر کہتا ہوں تو کہتا ہے وہ یہ دل ہے کیا
ایسے ناداں دلربا کے ملنے کا حاصل ہے کیا
جاننا باطل کسو کو یہ قصور فہم ہے
حق اگر سمجھے تو سب کچھ حق ہے یاں باطل ہے کیا
یاں کوئی دن رات وقفہ کرکے قصد آگے کا کر
کارواں گاہ جہان رفتنی منزل ہے کیا
تک رہے ہیں اس کو سو ہم تک رہے ہیں ایک سے
دیدئہ حیراں ہمارا دیدئہ بسمل ہے کیا
وہ حقیقت ایک ہی ساری نہیں ہے سب میں تو
آب سا ہر رنگ میں یہ اور کچھ شامل ہے کیا
چوٹ میرے دل میں ایسی ہے کہ ہوں میں دم بخود
وہ کشندہ یوں ہی کہتا ہے کہ تو گھائل ہے کیا
کہتے ہیں ظاہر ہے اک ہی لیلی ہفت اقلیم میں
اس عبارت کا نہیں معلوم کچھ محمل ہے کیا
ہم تو سو سو بار مر رہتے ہیں ایک ایک آن میں
عشق میں اس کے گذرنا جان سے مشکل ہے کیا
شاخ پر گل یا نہال اودھر جھکے جاتے ہیں سب
قامت دلکش کا اس کی سرو ہی مائل ہے کیا
مرثیہ میرے بھی دل کا رقت آور ہے بلا
محتشمؔ کو میر میں کیا جانوں اور مقبلؔ ہے کیا
میر تقی میر

یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں

دیوان دوم غزل 904
کیا عبث مجنوں پئے محمل ہے میاں
یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں
قند کا کون اس قدر مائل ہے میاں
جو ہے ان ہونٹوں ہی کا قائل ہے میاں
ہم نے یہ مانا کہ واعظ ہے ملک
آدمی ہونا بہت مشکل ہے میاں
چشم تر کی خیر جاری ہے سدا
سیل اس دروازے کا سائل ہے میاں
مرنے کے پیچھے تو راحت سچ ہے لیک
بیچ میں یہ واقعہ حائل ہے میاں
دل کی پامالی ستم ہے قہر ہے
کوئی یوں دلتا ہے آخر دل ہے میاں
آج کیا فرداے محشر کا ہراس
صبح دیکھیں کیا ہو شب حامل ہے میاں
دل تڑپتا ہی نہیں کیا جانیے
کس شکار انداز کا بسمل ہے میاں
چاہیے پیش از نماز آنکھیں کھلیں
حیف اس کا وقت جو غافل ہے میاں
رنگ بے رنگی جدا تو ہے ولے
آب سا ہر رنگ میں شامل ہے میاں
سامنے سے ٹک ٹلے تو دق نہ ہو
آسماں چھاتی پر اپنی سل ہے میاں
دل لگی اتنی جہاں میں کس لیے
رہگذر ہے یہ تو کیا منزل ہے میاں
بے تہی دریاے ہستی کی نہ پوچھ
یاں سے واں تک سو جگہ ساحل ہے میاں
چشم حق بیں سے کرو ٹک تم نظر
دیکھتے جو کچھ ہو سب باطل ہے میاں
دردمندی ہی تو ہے جو کچھ کہ ہے
حق میں عاشق کے دوا قاتل ہے میاں
برسوں ہم روتے پھرے ہیں ابر سے
زانو زانو اس گلی میں گل ہے میاں
کہنہ سالی میں ہے جیسے خورد سال
کیا فلک پیری میں بھی جاہل ہے میاں
کیا دل مجروح و محزوں کا گلہ
ایک غمگیں دوسرے گھائل ہے میاں
دیکھ کر سبزہ ہی خرم دل کو رکھ
مزرع دنیا کا یہ حاصل ہے میاں
مستعدوں پر سخن ہے آج کل
شعر اپنا فن سو کس قابل ہے میاں
کی زیارت میر کی ہم نے بھی کل
لاابالی سا ہے پر کامل ہے میاں
میر تقی میر

میں کشتہ ہوں انداز قاتل کا اپنے

دیوان اول غزل 556
تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنے
میں کشتہ ہوں انداز قاتل کا اپنے
نہ پوچھو کہ احوال ناگفتہ بہ ہے
مصیبت کے مارے ہوئے دل کا اپنے
دل زخم خوردہ کے اور اک لگائی
مداوا کیا خوب گھائل کا اپنے
جو خوشہ تھا صد خرمن برق تھا یاں
جلایا ہوا ہوں میں حاصل کا اپنے
ٹک ابرو کو میری طرف کیجے مائل
کبھو دل بھی رکھ لیجے مائل کا اپنے
ہوا دفتر قیس آخر ابھی یاں
سخن ہے جنوں کے اوائل کا اپنے
بنائیں رکھیں میں نے عالم میں کیا کیا
ہوں بندہ خیالات باطل کا اپنے
مقام فنا واقعے میں جو دیکھا
اثر بھی نہ تھا گور منزل کا اپنے
میر تقی میر

ّسینکڑوں ہم خوں گرفتہ ہیں وہ قاتل ایک ہے

دیوان اول غزل 526
کیا مرے سرورواں کا کوئی مائل ایک ہے
ّسینکڑوں ہم خوں گرفتہ ہیں وہ قاتل ایک ہے
راہ سب کو ہے خدا سے جان اگر پہنچا ہے تو
ہوں طریقے مختلف کتنے ہی منزل ایک ہے
اس مرے بت نے سبھوں کو حق سے توڑ اپنا کیا
کام میں اپنے بھی وہ معبود باطل ایک ہے
کیا عرب میں کیا عجم میں ایک لیلیٰ کا ہے شور
مختلف ہوں گو عبارات ان کا محمل ایک ہے
ایک سے ہے خرمن غم دانۂ اشک ایک سے
دیدہ و دل الغرض دونوں کا حاصل ایک ہے
اس شکار افگن کے کوچے سے نہیں جاتا ہے ظلم
ایک اگر جی سے گیا تو نیم بسمل ایک ہے
چشم و ابرو ناز و خوبی زلف و کاکل خال و خط
دیکھیے کیا ہو بلائیں اتنی ہیں دل ایک ہے
کام کچھ دنیا کی آسانی میں ہو تو میر کر
مردن دشوار بھی درپیش منزل ایک ہے
میر تقی میر

جو بھی قاتل ہے ہماری ہی طرح بسمل ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 301
کس کو دیں قتل کا اِلزام بڑی مشکل ہے
جو بھی قاتل ہے ہماری ہی طرح بسمل ہے
تیز دَھاروں نے حدیں توڑ کے رکھ دِیں ساری
اَب یہ عالم کہ جو دَریا ہے، وہی ساحل ہے
جو اَکیلے میں جلوسوں کا اُڑاتا ہے مذاق
وہ بھی اِس بھیڑ میں اوروں کی طرح شامل ہے
اِتنی اُمید نہ آتے ہوئے برسوں سے لگاؤ
حال بھی تو کسی ماضی ہی کا مستقبل ہے
شوق دونوں کو ہے ملنے کا، مگر رَستے میں
ایک پندار کی دیوارِ گراں حائل ہے
زہرۂ فکر کم آمیز بہت ہے، عرفانؔ
کم سے کم اُس کا تعارف تو تمہیں حاصل ہے
عرفان صدیقی

یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 75
خاک میں اس کی اگر خون بھی شامل ہے تو کیا
یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا
دل پہ چل جائے تو جادو ہے تری عشوہ گری
صرف گردن میں ترا ہاتھ حمائل ہے تو کیا
آنکھ ہر لحظہ تماشائے دگر چاہتی ہے
عکس تیرا ہی سرِ آئینۂ دل ہے تو کیا
ساری آوازوں کا انجام ہے چپ ہوجانا
نعرۂ ہوُ ہے تو کیا، شورِ سلاسل ہے تو کیا
عشق میں جان کہ تن کوئی تو کندن بن جائے
ورنہ یہ راکھ ہی اس آگ کا حاصل ہے تو کیا
میرے اندر ابھی محفوظ ہے اک لوحِ طلسم
اک طلسم اور ابھی میرے مقابل ہے تو کیا
عرفان صدیقی

لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 19
اس بھیڑ میں گم اے دل نہ ہونا
لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا
اچھا یہ سچ ہے، اچھی یہ ضد ہے
قائل نہ کرنا، قائل نہ ہونا
اس نے جو مل کر ہم کو سکھایا
حاصل نہ کرنا، حاصل نہ ہونا
جنگل نہ جانے کیوں چاہتے ہیں
بستی کی حد میں داخل نہ ہونا
بس جی دکھانا لوگوں کے دکھ پر
لوگوں کے دُکھ میں شامل نہ ہونا
قاتل سے لڑنا مشکل نہیں ہے
ممکن نہیں ہے بسمل نہ ہونا
عرفان صدیقی

تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 8
میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہوجاؤ
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ
دشت سے دور بھی کیا رنگ دکھاتا ہے جنوں
دیکھنا ہے تو کسی شہر میں داخل ہو جاؤ
جس پہ ہوتا ہی نہیں خونِ دو عالم ثابت
بڑھ کے اک دن اسی گردن میں حمائل ہو جاؤ
وہ ستم گر تمہیں تسخیر کیا چاہتا ہے
خاک بن جاؤ اور اس شخص کو حاصل ہو جاؤ
عشق کیا کارِ ہوس بھی کوئی آسان نہیں
خیر سے پہلے اسی کام کے قابل ہو جاؤ
ابھی پیکر ہی جلا ہے تویہ عالم ہے میاں
آگ یہ روح میں لگ جائے تو کامل ہو جاؤ
میں ہوں یا موجِ فنا اور یہاں کوئی نہیں
تم اگر ہو تو ذرا راہ میں حائل ہو جاؤ
عرفان صدیقی

اس مسافت پر طبعیت شوق سے مائل رہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 494
ہر قدم پر کوچہ ء جاناں میں گو مشکل رہی
اس مسافت پر طبعیت شوق سے مائل رہی
ایک اک گنتا رہا ضربِ مسلسل ایک اک
دل کی دھڑکن کپکپاتی یاد میں شامل رہی
اک طرف کتنے مسافر راستے میں رہ گئے
اک طرف پائے طلب کی منتظر منزل رہی
آخری الہام کی پہلی کرن سے پیشتر
چارہ گر آتے رہے بیچارگی بسمل رہی
یہ بنامِ امن جنگیں یہ ہلاکت خیز خیر
زندگی تہذیب کی دہلیز پر گھائل رہی
خشک پتے کی طرح اڑنا مجھے اچھا لگا
سچ یہی ہے عمر کا آوارگی حاصل رہی
ڈوبنے سے جو بچالیتی ہے اپنی زندگی
بس وہی کشتی سمندر کا سدا ساحل رہی
تنگ کرتی جا رہی ہے بس یہی الجھن مجھے
کوئی شے تھی پاس میرے جونہیں اب مل رہی
پھر کوئی منصور خوشبو ملنے والی ہے مجھے
ان دنوں باغیچے میں پھرہے چنبلی کھل رہی
منصور آفاق

کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 3
ان شوخ حسینوں پہ بھی مائل نہیں ہوتا
کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا
کچھ وصل کے وعدے سے بھی حاصل نہیں ہوتا
خوش اب تو خوشی سے بھی میرا دل نہیں ہوتا
گردن تن بسمل سے جدا ہو گئی کب سے
گردن سے جدا خنجر قاتل نہیں ہوتا
دنیا میں پری زاد دئیے خلد میں حوریں
بندوں سے وہ اپنے کبھی غافل نہیں ہوتا
دل مجھ سے لیا ہے تو ذرا بولیے ہنسئے
چٹکی میں مسلنے کے لئے دل نہیں ہوتا
عاشق کے بہل جانے سے کو اتنا بھی ہے کافی
غم دل کا تو ہوتا ہے اگر دل نہیں ہوتا
فریاد کروں دل کے ستانے کی اسی سے
راضی مگر اس پر بھی مرا دل نہیں ہوتا
مرنے کے بتوں پر یہ ہوئی مشق کہ مرنا
سب کہتے ہیں مشکل، مجھے مشکل نہیں ہوتا
جس بزم میں وہ رخ سے اٹھا دیتے ہیں پردہ
پروانہ وہاں شمع پہ مائل نہیں ہوتا
کہتے ہیں کہ دل کے تڑپتے ہیں جو عاشق
ہوتا ہے کہاں درد اگر دل نہیں ہوتا
یہ شعر وہ فن ہے کہ امیر اس کو جو برتو
حاصل یہی ہوتا ہے کہ حاصل نہیں ہوتا
آتا ہے جو کچھ منہ میں وہ کہہ جاتا ہے واعظ
اور اُس پہ یہ طرّہ ہے کہ قائل نہیں ہوتا
جب درد محبت میں یہ لذّت ہے تو یارب
ہر عضو میں، ہر جوڑ میں، کیوں دل نہیں ہوتا
دیوانہ ہے، دنیا میں جو دیوانہ نہیں ہے
عاقل وہی ہوتا ہے جو عاقل نہیں ہوتا
تم کو تو میں کہتا نہیں کچھ، حضرتِ ناصح
پر جس کو ہو تک ایسی وہ عاقل نہیں ہوتا
امیر مینائی