ٹیگ کے محفوظات: حاجات

بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 291
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی@
ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے غالب فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
@ نسخۂ مہر میں "کو”
مرزا اسد اللہ خان غالب

بات رہ جائے نہ یہ دن رہیں نے رات رہے

دیوان ششم غزل 1907
اس سخن رس سے اگر شب کی ملاقات رہے
بات رہ جائے نہ یہ دن رہیں نے رات رہے
فخر سے ہم تو کلہ اپنی فلک پر پھینکیں
اس کے سگ سے جو ملاقات مساوات رہے
مغبچے لے گئے سجادہ و عمامہ اچک
شیخ کی میکدے میں کیونکے کرامات رہے
دھجیاں جامے کی کردوں گا جنوں میں اب کے
گر گریباں دری کا کام مرے ہاتھ رہے
خاک کا پتلا ہے آدم جو کوئی اچھی کہے
عالم خاک میں برسوں تئیں وہ بات رہے
بات واعظ کی موثر ہو دلوں میں کیونکر
دن کو طامات رہے شب کو مناجات رہے
تنگ ہوں میر جی بے طاقتی دل سے بہت
کیونکے یہ ہاتھ تلے قبلۂ حاجات رہے
میر تقی میر

دو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی

دیوان اول غزل 467
کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی
دو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی
کن کن مصیبتوں سے ہوئی صبح شام ہجر
سو زلفیں ہی بناتے اسے رات ہو گئی
گردش نگاہ مست کی موقوف ساقیا
مسجد تو شیخ جی کی خرابات ہو گئی
ڈر ظلم سے کہ اس کی جزا بس شتاب ہے
آیا عمل میں یاں کہ مکافات ہو گئی
خورشید سا پیالۂ مے بے طلب دیا
پیر مغاں سے رات کرامات ہو گئی
کتنا خلاف وعدہ ہوا ہو گا وہ کہ یاں
نومیدی و امید مساوات ہو گئی
آ شیخ گفتگوے پریشاں پہ تو نہ جا
مستی میں اب تو قبلۂ حاجات ہو گئی
ٹک شہر سے نکل کے مرا گریہ سیر کر
گویا کہ کوہ و دشت پہ برسات ہو گئی
دیدار کی گرسنگی اپنی یہیں سے دیکھ
اک ہی نگاہ یاروں کی اوقات ہو گئی
اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرو
رنجش کی وجہ میر وہ کیا بات ہو گئی
میر تقی میر