ٹیگ کے محفوظات: جینے

مرے ضمیر! کرم کر مجھے بھی جینے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
فضا کا زہر ہی تریاق ہے تو پینے دے
مرے ضمیر! کرم کر مجھے بھی جینے دے
یہ ہم کہ غیر ہیں باوصفِ دعویٰٔ وحدت
جو رازدان ہوں باہم، ہمیں وہ سِینے دے
ہوس سے دُور ہو، اندر ہو پُرسکوں اُس کا
کوئی جو دے تو مری قوم کو دفینے دے
رہِ جنون بس اِتنی سی ڈھیل مانگتا ہوں
ہوئے ہیں زخم جو سینے میں، اُن کو سِینے دے
جو وصف، خاص ہے تجھ سے بروئے کار بھی لا
لغت کو لفظ کو ماجدؔ نئے قرینے دے
ماجد صدیقی

دیکھتے ہو تو دیکھو ہمارے جلتے توے سے سینے کو

دیوان پنجم غزل 1711
بات کہوں کیا چپکے چپکے دیکھو ہو آئینے کو
دیکھتے ہو تو دیکھو ہمارے جلتے توے سے سینے کو
کیا جانو تم قدر ہماری مہر و وفا کی لڑکے ہو
لوہو اپنا دیں ہیں تمھارے گرتے دیکھ پسینے کو
پھیر ایام نحس کا مجھ کو بہت کڈھب آتا ہے نظر
تم بھی غنیمت جانو میاں دس دن کے میرے جینے کو
وہ جو غیرت مہ ملتا ہے غیر سے ہم ہیں غیرت کش
سال ہمارے جی کا ہو گا ظاہر کوئی مہینے کو
لخت دل آنکھوں سے گرا سو ٹکڑا لعل کا تھا گویا
نصب کروں گا میر جگر پر خوش رنگ ایسے نگینے کو
میر تقی میر

چھاتی سے وہ مہ نہ لگا ٹک آکر اس بھی مہینے میں

دیوان چہارم غزل 1460
داغ فراق سے کیا پوچھو ہو آگ لگائی سینے میں
چھاتی سے وہ مہ نہ لگا ٹک آکر اس بھی مہینے میں
چاک ہوا دل ٹکڑے جگر ہے لوہو روئے آنکھوں سے
عشق نے کیا کیا ظلم دکھائے دس دن کے اس جینے میں
گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے
رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں
اس صورت کا ناز نہ تھا کچھ دب چلتا تھا ہم سے بھی
جب تک دیکھا ان نے نہ تھا منھ خوب اپنا آئینے میں
لوگوں میں اسلام کے ہو نہ شہرت اس رسوائی کی
شیخ کو پھیرا گدھے چڑھاکر مکے اور مدینے میں
دل نہ ٹٹولیں کاشکے اس کا سردی مہر تو ظاہر ہے
پاویں اس کو گرم مبادا یار ہمارے کینے میں
میر نے کیا کیا ضبط کیا ہے شوق میں اشک خونیں کو
کہیے جو تقصیر ہوئی ہو اپنا لوہو پینے میں
میر تقی میر

رہ گیا دیکھ رفو چاک مرے سینے کا

دیوان دوم غزل 766
رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا
رہ گیا دیکھ رفو چاک مرے سینے کا
اے طپش لوہو پیے میرا جو تو جھوٹ کہے
کس سے یہ قاعدہ سیکھا ہے لہو پینے کا
اس میں حیران ہوں کس کس کا گلہ تجھ سے کروں
بدگمانی کا تغافل کا ترے کینے کا
میر کی نبض پہ رکھ ہاتھ لگا کہنے طبیب
آج کی رات یہ بیمار نہیں جینے کا
میر تقی میر

موتی گویا جڑے ہیں مینے پر

دیوان اول غزل 222
خط میں ہے کیا سماں پسینے پر
موتی گویا جڑے ہیں مینے پر
کوئی ہوتا ہے دل طپش سے برا
ایک دم کے لہو نہ پینے پر
دل سے میرے شکستیں الجھی ہیں
سنگ باراں ہے آبگینے پر
چاک سینے سے کھل گئے ٹانکے
کیا رفو کم ہوا ہے سینے پر
جور دلبر سے کیا ہوں آزردہ
میر اس چار دن کے جینے پر
میر تقی میر

جانے کیا مصلحت ہے جینے میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 113
دل ٹھہرتا نہیں ہے سینے میں
جانے کیا مصلحت ہے جینے میں
یہ تمنا، یہ دل معاذاﷲ
آبگینہ ہے آبگینے میں
زخم پر زخم کھائے جاتے ہیں
کس کا دل ہے ہمارے سینے میں
زندگی نے ہزار حجت کی
خون کا ایک گھونٹ پینے میں
موج طوفاں کو دیکھ کر باقیؔ
ناخدا چھپ گیا سفینے میں
باقی صدیقی