ٹیگ کے محفوظات: جہلم کے کنارے اک شام

جہلم کے کنارے اک شام

اے ملاحو!

اِن لہروں کی کتنی چاندی ساتھ سمیٹے

اپنی رات کی کٹیا میں لے جاتے ہو

اور تمہارے روز کنارے کی بدبوئیں سلوٹ سلوٹ کپڑوں میں

سپنوں کی البیلیاں کیسے دھوتی ہیں

گیلی تو پڑ جاتی ہو گی موتیے جیسی رنگت

ان کے ہاتھوں کی

زخمی ہو تو ہو جاتے ہوں گے سبک سنہرے پاؤں اُن کے

جیون دکھ کے گھاٹوں پر

سایہ سا

دیوار سے اپنی پشت لگائے

ہولے ہولے کھینچ رہا ہے دھوپ کا کانٹا

اپنے ننگے پاؤں سے

ہونٹوں پر اُجڑی خاموشی شور کے گزرے لمحے کی

ڈھلتی شام کی پیشانی پر

زرد چنبیلی کا گھاؤ

پھیکی پڑتی کرنوں کی پیلاہٹ کو پھیلاتا ہے

ایک ستارہ

نم آلودہ پلکوں پر’ گھمبیر اندھیرے کے چُپ کی ویرانی میں

تھرّاتا ہے

اے ملاحو!

آنکھ بھنور سے کتنی دُوری پر تم ناؤ کھیتے ہو

غفلت کی عمروں کے لمبے رستے پر

مٹی اور کنارے کے ٹھہراؤ جیسی

یاد بھی ہے کچھ

کتنی چاندنیاں اور دُھوپیں

زرد اُداسی کی فصلوں کے کھیت بنیںِ

کتنے پتھر ریت بنے

اِس پانی کی

اپنے بانسوں سے تم نے کتنی گہرائی ناپی ہے

دریا بھید ہے اس سے کیسے دکھ کا انت ملے

ایک کھنڈر

بے آہٹ گزری صدیوں کا

شام سویرے کے رستے میں پھیلا ہے

اند باہر کی دنیائیں

جیسے ہوں خالی پرچھائیاں آپس کی

اور کنارا بھی دھارا ہو اُلٹا بہتے دریا کا

لوک کہانی والے جس میں

مٹی کے پیکر لمحوں کے بہتے رہنے کا نظاّرا

اپنی آنکھ کے ناٹک گھر سے

تکتے ہوں

آفتاب اقبال شمیم