ٹیگ کے محفوظات: جہاد

یہ خامشی کی غزل سُن، کسی کو یاد نہ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 177
ملال خانہء شب کو چراغ زاد نہ کر
یہ خامشی کی غزل سُن، کسی کو یاد نہ کر
خزانے درد کے دل میں سدا سلامت رکھ
تُو شہرِ سنگ میں تقسیم جائیداد نہ کر
بدن کی آگ جلا برف برف بنگلے میں
نگاہِ سرد سے یہ کارِ انجماد نہ کر
یہ خشک پتے پکڑتے ہیں آگ کو فوراً
بلند اتنا یہاں شعلہ ء عناد نہ کر
شبِ وصال پسندیدہ شب ہے مولا کی
زبانِ حضرتِ واعظ پہ اعتقاد نہ کر
کئی بگولوں میں ہوتی ہے دیکھ دکھ کی آنکھ
یہ دشت دشت تُو تسخیرِ گردباد نہ کر
بھلا دے بچھڑی ہوئی رت کا خوبرو چہرہ
مقامِ یاد پہ جلسوں کا انعقاد نہ کر
یہ رات رات حریفانہ کشمکش کیا ہے
دل و دماغ میں پیدا کھلا تضاد نہ کر
ہر ایک شخص نے جینا ہے اپنی مرضی سے
بنامِ حرمتِ خلقِ خدا ، فساد نہ کر
یہ دور دل میں جہنم اٹھائے پھرتا ہے
بجز خدا تُو ، کسی پر بھی اعتماد نہ کر
ترے لیے ہے بدن کی گداز رعنائی
نفس نفس میں سلگتا ہوا جہاد نہ کر
بھروسہ کر تُو کمک پر عوام کی منصور
یزیدِ وقت کی فوجوں سے اتحاد نہ کر
منصور آفاق