ٹیگ کے محفوظات: جھیل

تصویر چیں کی روبرو اس کے ذلیل ہے

دیوان سوم غزل 1257
ناز و ادا کے ساتھ وہ دلبر شکیل ہے
تصویر چیں کی روبرو اس کے ذلیل ہے
ہم خاک منھ کو مل کے نہ جوں آرسی پھرے
یاں پاس قرط آب اگر ہے سبیل ہے
جنگل میں خضرؑ و کعبہ کا ہونا مری طرح
دونوں کی نارسائی کے اوپر دلیل ہے
آگے جنوں سے چھائوں میں تھے سرو و گل کی ہم
سر پر ہمارے سایہ فگن اب کریل ہے
کچھ چیز و مال ہو تو خریدار ہو کوئی
دنیا کی قدر کیا کہ متاع قلیل ہے
کیا روئوں اشک آتے ہیں آنکھوں سے سیل سیل
پل مارنے میں پیش نظر ایک جھیل ہے
آتے نہیں نظر میں مری ہاتھی کے سوار
کانوں میں جو فسانۂ اصحاب فیل ہے
ہو صبر اس جو یوسف ثانی کے بے جمال
تو مصحف مجید میں صبر جمیل ہے
شکر و گلہ سے عشق کے لبریز ہے جہاں
کریے جہاں نگاہ یہی قال و قیل ہے
ہم دیر سے ہیں منتظر قدکشی یار
کچھ شامت عمل سے قیامت میں ڈھیل ہے
جب دیکھتے ہیں میر تمھیں بے دماغ ہو
کاہے کو ناز عشق میں صاحب دخیل ہے
میر تقی میر

سرِ صلیب ایستادہ ہو گا خدائے انجیل، چل کے دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 51
دکھائی جائے گی شہرِ شب میں سحر کی تمثیل، چل کے دیکھیں
سرِ صلیب ایستادہ ہو گا خدائے انجیل، چل کے دیکھیں
گلوں نے بندِ قبا ہے کھولا، ہوا سے بوئے جنوں بھی آئے
کریں گے اِس موسمِ وفا میں ، ہم اپنی تکمیل، چل کے دیکھیں
خلافِ اصحاب فیل اب کے، زیاں ہوئی غیب کی بشارت
پڑا ہوا خاک پر شکستہ، پرِ ابابیل، چل کے دیکھیں
چُنے ہیں وُہ ریزہ ریزہ منظر، لہو لہو ہو گئی ہیں آنکھیں
چلو نا! اِس دکھ کے راستے پر سفر کی تفصیل چل کے دیکھیں
فضا میں اُڑتا ہوا کہیں سے، عجب نہیں عکس برگ آئے
خزاں کے بے رنگ آسماں سے اٹی ہوئی جھیل، چل کے دیکھیں
لڑھک گیا شب کا کوہ پیما، زمیں کی ہمواریوں کی جانب
کہیں ، ہوا گُل نہ کر چکی ہو انا کی قندیل، چل کے دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

چاند کا دل جل رہا تھا دور لاکھوں میل پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 165
چاندنی پھیلی ہوئی تھی ریت کی شہنیل پر
چاند کا دل جل رہا تھا دور لاکھوں میل پر
ایک اچھے دوست کے ہمراہ گزری تھی کبھی
فروری کی ایک اجلی پیر ’’چشمہ جھیل‘‘ پر
لمبی کر کے اپنی گردن گھولتی تھی زرد چونچ
کونج تھی مامور شاید درد کی ترسیل پر
اور پھر تصویر پر تاریک سائے رہ گئے
روشنی سی پڑ گئی تھی کیمرے کی ریل پر
مانگتی ہے زندگی پھر روشنی الہام کی
اور ابد کی خامشی ہے قریہء جبریل پر
آئینے سے پھوٹتی ہیں نور کی پرچھائیاں
کیا کہوں منصور اپنے عکس کی تمثیل پر
منصور آفاق