ٹیگ کے محفوظات: جھکانا

کس کو ہے اختیار جتانا پڑا مجھے

موضوعِ جبر بحث میں لانا پڑا مجھے
کس کو ہے اختیار جتانا پڑا مجھے
باغِ عدم کو چھوڑ کے دشتِ وجود میں
آتا کبھی نہیں مگر آنا پڑا مجھے
اِس درجہ روشنی سے عداوت بڑھی یہاں
"جلتا ہُوا چراغ بجھانا پڑا مجھے”
عالم وہ ایک ہُو کا کہ موت آ کے لَوٹ جائے
مرنے سے پہلے شور مچانا پڑا مجھے
ضامنؔ! وہ فردِ جرم تھی یا فردِ جبر تھی
خاموش ہو کے سر کو جھکانا پڑا مجھے
ضامن جعفری

حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا جانا ہے

دیوان چہارم غزل 1523
دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے
حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا جانا ہے
اس کی نگاہ تیز ہے میرے دوش و بر پر ان روزوں
یعنی دل پہلو میں میرے تیرستم کا نشانہ ہے
دل جو رہے تو پائوں کو بھی دامن میں ہم کھینچ رکھیں
صبح سے لے کر سانجھ تلک اودھر ہی جانا آنا ہے
سرخ کبھو آنسو ہیں ہوتے زرد کبھو ہے منھ میرا
کیا کیا رنگ محبت کے ہیں یہ بھی ایک زمانہ ہے
اس نومیدی بے غایت پر کس مقدار کڑھا کریے
دو دم جیتے رہنا ہے تو قیامت تک مر جانا ہے
فرصت کم ہے یاں رہنے کی بات نہیں کچھ کہنے کی
آنکھیں کھول کے کان جو کھولو بزم جہاں افسانہ ہے
فائدہ ہو گا کیا مترتب ناصح ہرزہ درائی سے
کس کی نصیحت کون سنے ہے عاشق تو دیوانہ ہے
تیغ تلے ہی اس کے کیوں نہ گردن ڈال کے جا بیٹھیں
سر تو آخرکار ہمیں بھی خاک کی اور جھکانا ہے
آنکھوں کی یہ مردم داری دل کو کسو دلبر سے ہے
طرزنگہ طراری ساری میر تمھیں پہچانا ہے
میر تقی میر