ٹیگ کے محفوظات: جھکائے

بچا لیے تھے جو آنسو برائے شامِ فراق

چراغ بن کے وہی جھلملائے شامِ فراق
بچا لیے تھے جو آنسو برائے شامِ فراق
کدھر چلے گئے وہ ہم نوائے شامِ فراق
کھڑی ہے در پہ مرے سر جھکائے شامِ فراق
پلک اُٹھاتے ہی چنگاریاں برستی ہیں
بچھی ہے آگ سی کیا زیرِپائے شامِ فراق
یہ رینگتی چلی آتی ہیں کیا لکیریں سی
یہ ڈھونڈتی ہے کسے سائے سائے شامِ فراق
کبھی یہ فکر کہ دن کو بھی منہ دِکھانا ہے
کبھی یہ غم کہ پھر آئے نہ آئے شامِ فراق
وہ اشکِ خوں ہی سہی دل کا کوئی رنگ تو ہو
اب آ گئی ہے تو خالی نہ جائے شامِ فراق
بجھی بجھی سی ہے کیوں چاند کی ضیا ناصر
کہاں چلی ہے یہ کاسہ اُٹھائے شامِ فراق
ناصر کاظمی

جان کو کوئی کھائے جاتا ہے

دیوان دوم غزل 1020
شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے
جان کو کوئی کھائے جاتا ہے
ہر کوئی اس مقام میں دس روز
اپنی نوبت بجائے جاتا ہے
کھل گئی بات تھی سو ایک اک پر
تو وہی منھ چھپائے جاتا ہے
یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر
اپنی ٹکّی لگائے جاتا ہے
رویئے کیا دل و جگر کے تئیں
جی بھی یاں پر تو ہائے جاتا ہے
کیا کیا ہے فلک کا میں کہ مجھے
خاک ہی میں ملائے جاتا ہے
تہ جنھیں کچھ ہے ان کے تیں ہر گام
عرق شرم آئے جاتا ہے
جاے عبرت ہے خاکدان جہاں
تو کہاں منھ اٹھائے جاتا ہے
دیکھ سیلاب اس بیاباں کا
کیسا سر کو جھکائے جاتا ہے
وہ تو بگڑے ہے میر سے ہر دم
اپنی سی یہ بنائے جاتا ہے
میر تقی میر