ٹیگ کے محفوظات: جھڑے

حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 71
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ
راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ!
کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ
اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ
الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات
خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ
ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں
سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ
بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا
دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ
طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے
کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ
پروین شاکر

پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 6
اک وقت تو ایسا تھا کہ دن رات کڑے تھے
پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے
ھم نیند کے عالم میں کوئی موڑ مڑے تھے
دیکھا تو ابد گیر زمانے میں کھڑے تھے
معلوم ہے جس موڑ پہ بچھڑے تھے اسی جا
کچھ ہاتھ ہلاتے ہوئے اشجار کھڑے تھے
ہر موڑ پہ ہوتا تھا یہاں قتل وفا کا
ہر موڑ پہ ٹوٹے ہوئے آئینے پڑے تھے
ڈر تھا کہ پکارا تھا تمھیں ذر کی چمک نے
میدان سے تم لوگ کہاں بھاگ پڑے تھے
اسطورۂِ بغداد کو شب خواب میں دیکھا
وہ حسن تھا شہزادے قطاروں میں کھڑے تھے
تم نے بھی بہت اشک بہائے تھے بچھڑ کر
پیڑوں سے بھی اس رات بہت پات جھڑے تھے
اک قافلہ بھٹکا تھا کسی خواب کے اندر
اک شہر کے رستے میں بہت موڑ پڑے تھے
توقیر عباس

پلٹ کے ہم جو گئے توگلیوں میں چاند تارے پڑے ہوئے تھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 586
گئی رتوں کے جو ہمسفر تھے چراغ لے کر کھڑے ہوئے تھے
پلٹ کے ہم جو گئے توگلیوں میں چاند تارے پڑے ہوئے تھے
اداس کتنا وہی مکاں تھاخود آپ گزروں کی داستاں تھا
بڑے بڑوں کی کہانیاں ہم جہاں پہ سن کر بڑے ہوئے تھے
جہاں جہاں سے گزر رہا تھا خزاں کی باچھیں کھلی ہوئی تھی
مرے نظر کے شجر برہنہ تھے مردہ پتے جھڑے ہوئے تھے
یہ کیسے ممکن تھا ساتھ چلتے ،یہ کیسے ممکن رات ڈھلتی
انہیں چراغوں سے بیر ساتھامجھے اندھیرے لڑے ہوئے تھے
جو عمر میں نے بسر نہیں کی، سنائی دیتی تھی ہر گلی سے
کئی فسانے بنے ہوئے تھے ہزار قصے گھڑے ہوئے تھے
وہیں پہ راتوں پچھلے پہروں خدا سے ہوتی تھی گفتگو بھی
وہ ایک کمرہ کہ جس کی چھت پرتنے شجر کے چڑھے ہوئے تھے
منصور آفاق

یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 245
یہ جو پندار کے پڑے ہیں سانپ
یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ
کیا خزانہ تلاش کرتے ہو
اس کنویں میں بڑے بڑے ہیں سانپ
ہر قدم پر خدا کی بستی میں
مسئلوں کی طرح کھڑے ہیں سانپ
کم ہوئی کیا مٹھاس پانی کی
کتنے دریاؤں کو لڑے ہیں سانپ
اب بھی ڈرتا ہے آدمی ان سے
وہ جو تاریخ میں گڑے ہیں سانپ
ایک فوسل کی شکل میں منصور
کچھ مزاروں پہ بھی جڑے ہیں سانپ
منصور آفاق