ٹیگ کے محفوظات: جھپک

حیرت سے پلک جھپک رہی ہوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 56
منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں
حیرت سے پلک جھپک رہی ہوں
یہ تُو ہے کہ میرا واہمہ ہے!
بند آنکھوں سے تجھ کو تک رہی ہوں
جیسے کہ کبھی نہ تھا تعارف
یوں ملتے ہوئے جھجک رہی ہوں
پہچان! میں تیری روشنی ہوں
اور تیری پلک پلک رہی ہوں
کیا چَین ملا ہے………سر جو اُس کے
شانوں پہ رکھے سِسک رہی ہوں
پتّھر پہ کھلی ، پہ چشمِ گُل میں
کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہوں
جگنو کہیں تھک کے گرِ چُکا ہے
جنگل میں کہاں بھٹک رہی ہوں
گڑیا مری سوچ کی چھنی کیا
بچّی کی طرح بِلک رہی ہوں
اِک عمر ہُوئی ہے خُود سے لڑتے
اندر سے تمام تھک رہی ہوں
رس پھر سے جڑوں میں جا رہا ہے
میں شاخ پہ کب سےپک رہی ہوں
تخلیقِ جمالِ فن کا لمحہ!
کلیوں کی طرح چٹک رہی ہوں
پروین شاکر

پلکوں کی صف کو دیکھ کے بھیڑیں سرک گئیں

دیوان چہارم غزل 1448
خوبی رو و چشم سے آنکھیں اٹک گئیں
پلکوں کی صف کو دیکھ کے بھیڑیں سرک گئیں
چلتے سمندناز کی شوخی کو اس کے دیکھ
گھوڑوں کی باگیں دست سپہ سے اچک گئیں
ترچھی نگاہیں پلکیں پھریں اس کی پھرپھریں
سو فوجیں جو دو رستہ کھڑی تھیں بہک گئیں
بجلی سا مرکب اس کا کڑک کر چمک گیا
لوگوں کے سینے پھٹ گئے جانیں دھڑک گئیں
محبوب کا وصال نہ ہم کو ہوا نصیب
دل سے ہزار خواہشیں سر کو پٹک گئیں
موقوف طور نور کا جھمکا ترا نہیں
چمکا جہاں تو برق سا آنکھیں جھپک گئیں
وحشت سے بھر رہی تھی بزن گہ جہان کی
جانیں بسان طائر بسمل پھڑک گئیں
گرد رہ اس کی دیکھتے اپنے اٹھی نہ حیف
اب منتظر ہو آنکھیں مندیں یعنی تھک گئیں
بھردی تھی چشم ساقی میں یارب کہاں کی مے
مجلس کی مجلسیں نظر اک کرتے چھک گئیں
کیا میر اس کی نوک پلک سے سخن کرے
سرتیز چھریاں گڑتی جگر دل تلک گئیں
میر تقی میر