ٹیگ کے محفوظات: جھنجھوڑ

وہ پیڑ پیڑ پہ آکاس بیل چھوڑ گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
گیا تو باغ کا رشتہ فنا سے جوڑ گیا
وہ پیڑ پیڑ پہ آکاس بیل چھوڑ گیا
سہاگ جن سے تھا منسوب لطفِ فردا کا
کلائیاں ہیں کچھ ایسی بھی وہ مروڑ گیا
اُسے عزیز تھا پرچار اپنے باطل کا
سو جو بھی چشم تھی حق بِیں، اُسے وہ پھوڑ گیا
جفا پرست وہ ایسا تھا جو خلافِ ستم
دلوں میں عزم تھے جتنے اُنہیں جھنجھوڑ گیا
رہا بھی اُس سے تو بس لین دین نفرت کا
سو،لے کے لاکھ، ہمیں دے کے وہ کروڑ گیا
ماجد صدیقی

وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 51
بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی
وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی
ابد کی راہ پہ بےخواب دھڑکنوں کی دھمک
جو سو گئے انہیں بجھتے جُگوں میں چھوڑ گئی
یہ زندگی کی لگن ہے کہ رتجگوں کی ترنگ
جو جاگتے تھے انھی کو یہ دھن جھنجھوڑ گئی
وہ ایک ٹیس جسے تیرا نام یاد رہا
کبھی کبھی تو مرے دِل کا ساتھ چھوڑ گئی
رکا رکا ترے لب پرعجب سخن تھا کوئی
تری نگہ بھی جسے ناتمام چھوڑ گئی
فرازِ دل سے اترتی ہوئی ندی، امجد
جہاں جہاں تھا حسیں وادیوں کا موڑ، گئی
مجید امجد