ٹیگ کے محفوظات: جھنجلاہٹ

پھر جوشِ جنوں بیدار ہُوا پِھر عقل کو ہے جھنجلاہٹ سی

ویرانہِ دل میں کون آیا کانوں نے سنی اِک آہٹ سی
پھر جوشِ جنوں بیدار ہُوا پِھر عقل کو ہے جھنجلاہٹ سی
پھر چشمِ تصوّر نے کھینچا اِک حشر سراپا کا نقشہ
پھر اُس نے دیکھا ہے لے کر آنکھوں میں ایک لگاوَٹ سی
مانا کہ نہیں اب وہ عالم رُخصت بھی خمارِ شب کی ہے
ہے پھر بھی تمنّا ایک نظر کافی ہے ہمیں یہ تلچھٹ سی
وہ عرضِ محبّت پر میری شرمائے ہُوئے سے بیٹھے ہیں
نظریں ہیں جھکی، پلکیں لرزاں چہرے سے عیاں گھبراہٹ سی
یہ کون سا کوچہ ہے یارب ہر گام پہ کیوں سر جھُکتا ہے
کہتے ہیں قرائن سب ضامنؔ لگتی ہے یہ اُن کی چوکھٹ سی
ضامن جعفری