ٹیگ کے محفوظات: جھانکے

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 72
عکس خوشبو ہوں ، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
کانپ اُٹھتی ہوں یہی سوچ کہ تنہائی میں
میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی
جس طرح خواب میرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی
میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
کوئی آہٹ، کوئی آواز، کوئی چاپ نہیں
دِل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی
پروین شاکر

اس کی گلی کا ساکن ہرگز ادھر نہ جھانکے

دیوان دوم غزل 987
خوبی کی اپنی جنت کیسی ہی ڈینگیں ہانکے
اس کی گلی کا ساکن ہرگز ادھر نہ جھانکے
ایک ایک بات اوپر ہیں پیچ و تاب سو سو
رہتے نہیں ہیں سیدھے یہ لونڈے ٹیڑھے بانکے
سر کو اس آستاں پر رکھے رہیں تو بہتر
اٹھیے جو اس کے در سے تو ہوجیے کہاں کے
گردش سے روسیہ کی کیا کیا بلائیں آئیں
جانے ہی کے ہیں لچھن سارے اس آسماں کے
مشتاق ہم جو ایسے سو ہم ہی سے ہے پردہ
جب اس طرف سے نکلے تب منھ کو اپنے ڈھانکے
ہے پرغبار عالم جانا ہی یاں سے اچھا
اس خاکداں میں رہ کر کیا کوئی خاک پھانکے
کل باغ میں گئے تھے روئے چمن چمن ہم
کچھ سرو میں جو پائے انداز اس جواں کے
جاناں کی رہ سے آنکھیں جس تس کی لگ رہی ہیں
رفتہ ہیں لوگ سارے ان پائوں کے نشاں کے
خمیازہ کش رہے ہے اے میر شوق سے تو
سینے کے زخم کے کہہ کیونکر رہیں گے ٹانکے
میر تقی میر