ٹیگ کے محفوظات: جگائے

بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
ناز لبوں پر اُس کے لائے ہم نے بھی
بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی
یاد دلا کر خاصے دُور کے دن اُس کو
کیا کیا کچُھ قصّے دُہرائے ہم نے بھی
حیف! کہ رکھتا تھا جو بھیس خدائی کا
اُس جوگی کو ہاتھ دکھائے ہم نے بھی
شہر میں، سُن کر، اُس چنچل کے آنے کی
پلکوں پر کچھ دیپ جلائے ہم نے بھی
دل میں، جن کے ہوتے سانجھ سویرا ہو
کچھ ایسے ارمان جگائے ہم نے بھی
اَب جو مِلے تو ماجدؔ اُس کو اوڑھ ہی لیں
کب سے انگ نہیں سہلائے ہم نے بھی
ماجد صدیقی

باکرہ ماں کی طرح پیٹ چھپائے رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 89
دھیان اوروں کا حقیقت سے ہٹائے رکھنا
باکرہ ماں کی طرح پیٹ چھپائے رکھنا
کیا خبر آ ہی نہ جائے وہ سرِ صبح کہیں
دل میں موہوم سی امید جگائے رکھنا
درس منبر سے بھی رہ سہہ کے ملا اِتنا ہی
جو بھی خواہش ہو اُسے کل پہ اُٹھائے رکھنا
دل سے بالک کے لئے آ ہی گیا ہے ہم کو
ہڈیاں آس کی چُولھے پہ چڑھائے رکھنا
جو نہ کہنا ہو سرِ بزم وہ کہہ دیں ماجدؔ
کچھ بھرم ہم کو محّبت کا نہ آئے رکھنا
ماجد صدیقی

حشر اِس دل میں اُٹھائے کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
خود کو ہم سے وُہ چھپائے کیا کیا
حشر اِس دل میں اُٹھائے کیا کیا
دمبدم اُس کی نظر کا شعلہ
مشعلیں خوں میں جلائے کیا کیا
ہم نے اُس کے نہ اشارے سمجھے
لعل ہاتھوں سے گنوائے کیا کیا
گلُ بہ گلُ اُس کے فسانے لکھ کر
درد موسم نے جگائے کیا کیا
لفظ اُس شوخ کے عشووں جیسے
ہم نے شعروں میں سجائے کیا کیا
حرف در حرف شگوفے ہم نے
اُس کے پیکر کے، کھلائے کیا کیا
لُطف کے سارے مناظر ماجدؔ
جو بھی دیکھے تھے دکھائے کیا کیا
ماجد صدیقی

کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 97
یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے،نہ گئے
کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے
اب وہ نیندوں کا اُجڑتا تو نہیں دیکھیں گے
وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے
رات بھر میں نے کُھلی آنکھوں سے سپنا دیکھا
رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چرائے نہ گئے
بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی
عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے
پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آکر
ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے
تیز بارش ہو، گھنا پیڑ ہو، اِک لڑکی ہو
ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے
روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال
چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے
پروین شاکر

اور کرنوں کی طرح ہاتھ میں آئے بھی نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 400
وہ بدن کون ہے کچھ اپنا بتائے بھی نہیں
اور کرنوں کی طرح ہاتھ میں آئے بھی نہیں
دور تک برف بھری رات کے سناٹے ہیں
شہر میں یادکے ڈھلتے ہوئے سائے بھی نہیں
وصل خاموش بھی پُرشوربھی اپنے اندر
آگ محسوس بھی ہو اور جلائے بھی نہیں
کینوس میں مرے رنگوں کو رکھے قید کوئی
اورتصویر تعلق کی بنائے بھی نہیں
کوئی منصورمرے بسترِ آباد کے بیچ
مجھ کو بھی سونے بھی نہ دے اور جگائے بھی نہیں
منصور آفاق