ٹیگ کے محفوظات: جگاؤں

تاب اس جلوے کی لاؤں کیوں کر

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 49
وصل کے لطف اُٹھاؤں کیوں کر
تاب اس جلوے کی لاؤں کیوں کر
گرم جوشی کا کروں شکوہ کہ وہ
کہتے ہیں تجھ کو جلاؤں کیوں کر
کیا کروں ہائے میں بے تاب، وہ شوخ
چین سے پاس بٹھاؤں‌ کیوں کر
ہر بنِ مُو سے دھواں اٹھتا ہے
آتشِ غم کو چھپاؤں کیوں کر
میرے آنے سے تم اٹھ جاتے ہیں
بزمِ دشمن میں نہ آؤں کیوں کر
یاد نے جس کی بھلایا سب کچھ
اس کی میں یاد بھلاؤں کیوں کر
آپ بھایا مجھے رونا اپنا
کہتے ہیں ہائے میں جاؤں کیوں کر
چارۂ غیر سے فرصت ہی نہیں
دردِ دل اس کو سناؤں کیوں کر
زندگانی سے خفا ہوں اپنی
پھر کہو، تم کو مناؤں کیوں کر
اس کے آتے ہی بھڑک اٹھی اور
آتشِ دل کو بجھاؤں کیوں کر
شورِ محشر ابھی چونک اٹھے گا
شیفتہ کو میں جگاؤں کیوں کر
مصطفٰی خان شیفتہ

یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 158
اب اپنے زخم کو اپنی زباں بناؤں گا میں
یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں
اسی سفر کا شجر ہے وہ پھر ملے گا مجھے
اسی زمین کا موسم ہوں لوٹ آؤں گا میں
کبھی کبھی تجھے دیکھوں گا تیری آنکھوں سے
کبھی کبھی ترے ہونٹوں سے مسکراؤں گا میں
کبھی کبھی کسی دُھن میں تجھے پکاروں گا
کبھی کبھی کسی بن میں الکھ جگاؤں گا میں
غرورِ جاں میں بھی رکھوں گا چاہتوں کا بھرم
کبھی کبھی ترے احسان بھی اٹھاؤں گا میں
مرے لہو کو یہی موجِ تشنگی ہے بہت
کنارِ جو ابھی خیمہ نہیں لگاؤں گا میں
اب ایک سنگ اس آئینے سے تراشوں گا
تجھے پھر اک ہنر رائیگاں دکھاؤں گا میں
یہی رہے گا تماشا مرے چراغوں کا
ہوا بجھاتی رہے گی جلائے جاؤں گا میں
میں چاہتا ہوں یہیں سارے فیصلے ہوجائیں
کہ اس کے بعد یہ دُنیا کہاں سے لاؤں گا میں
عرفان صدیقی