ٹیگ کے محفوظات: جڑا

سخی! محبت زدہ عقیدہ تری محبت

مرا تصوّف، مرا عقیدہ، تری محبت
سخی! محبت زدہ عقیدہ تری محبت
نمازِ مغرب قضا ہوئی تو ضمیر بولا!
کہ ہائے غافل! ترا عقیدہ، تری محبت
مری عقیدت سبھی عقیدوں سے ایک جیسی
مگر ہے سب سے جُدا عقیدہ تری محبت
تری قسم دے کے کہہ رہا ہوں مرے لئے تو
فنا صدی کا بقا عقیدہ، تری محبت
تری عطا پہ میں خوش ہوں میرے کریم مولا!
ہے لا اِلٰہ جڑا عقیدہ تری محبت
ذلیل دنیا نے ساتھ چھوڑا تو کام آئے
قدم، قدم پر ترا عقیدہ تری محبت
افتخار فلک

یا قلم کی ہمت سے واقعہ بڑا ہے کیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 90
ذات کی نظربندی میں ادب پڑا ہے کیا
یا قلم کی ہمت سے واقعہ بڑا ہے کیا
بھر گیا ہے لاشوں سے ،آئینہ خراشوں سے
اپنے آپ سے کوئی رات بھر لڑا ہے کیا
عین ہیں اکائی میں خط و قوس ابجد کے
اُس نے عین فرصت میں وہ بدن گھڑا ہے کیا
اپنے آپ کو دیکھوں اور دیکھتا جاؤں
آئینے کے اندر بھی آئینہ جڑا ہے کیا
عزم لے کے جاتا ہوں اور لوٹ آتا ہوں
سنگِ میل قسمت کا راہ میں گڑا ہے کیا؟
اس سپاہِ پسپائی، سے سوال کیا پوچھوں
جان سے گزرنے کا مرحلہ کڑا ہے کیا؟
آفتاب اقبال شمیم

میں کسی سے ملا ہوں ویسے ہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 493
عشق میں مبتلا ہوں ویسے ہی
میں کسی سے ملا ہوں ویسے ہی
آج میرا بہت برا دن تھا
یار سے لڑ پڑا ہوں ویسے ہی
اس لیے آنکھ میں تھکاوٹ ہے
ہر طرف دیکھتا ہوں ویسے ہی
بارشِ سنگ ہوتی رہتی ہے
آسماں لیپتا ہوں ویسے ہی
مجھ کو لا حاصلی میں رہنا ہے
میں تجھے سوچتا ہوں ویسے ہی
ایک رہرو سے پوچھتے کیا ہو
اک ذرا رک گیا ہوں ویسے ہی
پھول یوں ہی یہ پاس ہیں میرے
راستے میں کھڑا ہوں ویسے ہی
تُو بہت خوبرو سہی لیکن
میں تجھے مل رہا ہوں ویسے ہی
وہ کبھی پوچھنے نہیں آیا
آسماں سے جڑا ہوں ویسے ہی
مجھ کو جانا نہیں کہیں منصور
تار پر چل رہا ہوں ویسے ہی
منصور آفاق