ٹیگ کے محفوظات: جُو

چہرے پہ خاک ،زخم پہ خوشبو بکھیریے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 126
عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیریے
چہرے پہ خاک ،زخم پہ خوشبو بکھیریے
کوئی گزرتی رات کے پچھلے پہر کہے
لمحوں کو قید کیجئے ، گیسو بکھیریے
دھیمے سُروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑیے
ٹھہری ہُوئی ہَواؤں میں جادُو بکھیریے
گہری حقیقتیں بھی اُترتی رہیں گی پھر
خوابوں کی چاندنی تو لبِ جُو بکھیریے
دامانِ شب کے نام کوئی روشنی تو ہو
تارے نہیں نسصیب تو آنسو بکھیریے
دشتِ غزال سے کوئی خوبی تو مانگیے
شہرِ جمال میں رمِ آہو بکھیریے
پروین شاکر

میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 152
خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی
حسنِ مغموم، تمکنت میں تری
فرق آیا نہ یک سرِ مو بھی
یہ نہ سوچا تھا زیرِ سایہ ءِ زلف
کہ بچھڑ جائے گی یہ خوشبو بھی
حسن کہتا تھا چھیڑنے والے
چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی
ہائے اس کا وہ موج خیز بدن
میں تو پیاسا رہا لبِ جُو بھی
یاد آتے ہیں معجزے اپنے
اور اس کے بدن کا جادو بھی
یاسمیں! اس کی خاص محرمِ راز
یاد آیا کرے گی اب تو بھی
یاد سے اس کی ہے مرا پرہیز
اے صبا اب نہ آئیو تو بھی
ہیں یہی جون ایلیا جو کبھی
سخت مغرور بھی تھے، بد خو بھی
جون ایلیا