ٹیگ کے محفوظات: جویں

نشانِ سجدہ پڑا تھا اُس کا، جبیں سے آگے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 17
سپردگی میں نکل گیا وہ زمیں سے آگے
نشانِ سجدہ پڑا تھا اُس کا، جبیں سے آگے
رواں سمندر کا چلتا ساحل ہے آدمی بھی
اُسی کی زد میں کہیں سے پیچھے کہیں سے آگے
ضرور ہم بھی مسائل دل پہ غور کرتے
نکلنے پاتے کبھی جو نانِ جویں سے آگے
ابھی تو نو مشقِ جستجو ہوں ، ابھی سفر میں
ہے اور کچھ بھی حدودِ عقل و یقیں سے آگے
سفر کا خاکہ لگے کہ پَرکار سے بنا ہے
وہی ذرا سی نمود ہاں کی، نہیں سے آگے
پلٹ گیا خوش مشام طائر، سراغ پا کر
کہ بوئے سازش اڑی تھی جائے کمیں سے آگے
آفتاب اقبال شمیم

میاں کا صدقہِ تاج و نگیں ملا ہے مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 298
فقیر ہوں دلِ تکیہ نشیں ملا ہے مجھے
میاں کا صدقہِ تاج و نگیں ملا ہے مجھے
زباں کو خوش نہیں آتا کسی کا آب و نمک
عجب تبرکِ نان جویں ملا ہے مجھے
میں بوریا بھی اسی خاک پر کیا تھا بساط
سو یہ خریطۂ زر بھی یہیں ملا ہے مجھے
چراغِ گنبد و محراب بجھ گئے ہیں تمام
تو اک ستارۂ داغِ جبیں ملا ہے مجھے
یہ سر کہاں وہ کلاہِ چہار ترک کہاں
ابھی اجازۂ بیعت نہیں ملا ہے مجھے
عرفان صدیقی

پہلے سے نہیں ہم کہ وہ پہلے سے نہیں لوگ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 100
رہتے ہیں تصور سے بھی اب دور کہیں لوگ
پہلے سے نہیں ہم کہ وہ پہلے سے نہیں لوگ
منہ کھولے ہوئے بیٹھے ہیں کشکول کی صورت
یاقوت گراں مایہ سے تا نان جویں لوگ
ملتا ہے جہاں کوئی چمکتا ہوا ذرہ
رُکتے ہیں وہیں لوگ بھٹکتے ہیں وہیں لوگ
کیا آپ کی رفتار کا شعلہ ہے زمانہ
رکھ دیتے ہیں ہر نقش زمانہ پہ جبیں لوگ
آ پہنچا ہے اس نکتے پہ افسانۂ ہستی
کچھ سنتے نہیں آپ تو کچھ کہتے نہیں لوگ
اس دور سے چپ چاپ گزر جا دل ناداں
احساس کی آواز بھی سن لیں نہ کہیں لوگ
حالات بدلنا کوئی مشکل نہیں باقیؔ
حالات کے رستے میں ہیں دیوار ہمیں لوگ
باقی صدیقی