ٹیگ کے محفوظات: جوہر

اگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچ

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 151
نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ
اگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچ
"کمالِ گرمئ سعئ تلاشِ دید” نہ پوچھ
بہ رنگِ خار مرے آئینہ سے جوہر کھینچ
تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار اے دل!
کیا ہے کس نے اشارہ کہ نازِ بسترکھینچ
تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگس
بہ کورئ دل و چشمِ رقیب ساغر کھینچ
بہ نیم غمزہ ادا کر حقِ ودیعتِ ناز
نیامِ پردۂ زخمِ جگر سے خنجر کھینچ
مرے قدح میں ہے صہبائے آتشِ پنہاں
بروئے سفرہ کبابِ دلِ سمندر کھینچ
مرزا اسد اللہ خان غالب

آتا ہے دور ہی سے ہم کو نظر گھر اپنا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 17
ہو عزم دیر شاید کعبہ سے پھر کر اپنا
آتا ہے دور ہی سے ہم کو نظر گھر اپنا
قید خرد میں رہتے آتے نہیں نظر ہم
وحشت رہے گی دل کی دکھلا کے جوہر اپنا
بیگانہ وش ہے گروہ تو ہے ہمارے ڈھب کا
ایسوں ہی سے نبھا ہے یارانہ اکثر اپنا
کچھ کذب و افترا ہے کچھ کذب حق نما ہے
یہ ہے بضاعت اپنی اور یہ ہے دفتر اپنا
غیروں کو لیں گے آخر اپنا بنا کے کیا ہم
اپنوں ہی سے ہے حالیؔ کچھ دل مکدر اپنا
ہو عزم دیر شاید کعبہ سے پھر کر اپنا
آتا ہے دور ہی سے ہم کو نظر گھر اپنا
قید خرد میں رہتے آتے نہیں نظر ہم
وحشت رہے گی دل کی دکھلا کے جوہر اپنا
بیگانہ وش ہے گروہ تو ہے ہمارے ڈھب کا
ایسوں ہی سے نبھا ہے یارانہ اکثر اپنا
کچھ کذب و افترا ہے کچھ کذب حق نما ہے
یہ ہے بضاعت اپنی اور یہ ہے دفتر اپنا
غیروں کو لیں گے آخر اپنا بنا کے کیا ہم
اپنوں ہی سے ہے حالیؔ کچھ دل مکدر اپنا
الطاف حسین حالی