ٹیگ کے محفوظات: جوانی

اور پھر وہ، کہ سنی تم نے زبانی میری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
کیوں رُلاتی نہ تمہیں پیار کہانی میری
اور پھر وہ، کہ سنی تم نے زبانی میری
طاقِنسیاں میں کہیں رکھ کے اُسے بھول گئے
ا نگلیوں میں جو سجائی تھی نشانی میری
آنچ سی دینے لگا ہجر کا صحرا جب سے
اور مرجھانے لگی عمر سہانی میری
برقِ فرقت کی گرج خوف دلاتی ہے یہی
راکھ کا ڈھیر نہ ہو جائے جوانی میری
مجھ کو دہرانے پہ مجبور نہ کرنا جاناں !
جاں سے جانے کی ہے جو ریت پرانی میری
ماجد صدیقی

ہاں وہ شخص کہ رات کی رانی جیسا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
منظر کی تزئین میں ’مانی‘ جیسا ہے
ہاں وہ شخص کہ رات کی رانی جیسا ہے
آنکھ میں اُس کے لبوں کا وداعی سنّاٹا
ہاتھ میں مُندری کی سی نشانی جیسا ہے
رہبروں کے غبارے پھٹنے پر اپنا
عالم بّچوں کی حیرانی جیسا ہے
جس کی قبر کو ڈھانپنے تاج محل اُبھرے
وہ بے مثل ہے کون اُس رانی جیسا ہے
ہونٹ سِلے ہیں گویا بل بل ماتھے کا
تن میں ابلتا خوں طغیانی جیسا ہے
قّصہ اپنے ہاں کے سبھی منصوبوں کا
طوطے اور مَینا کی کہانی جیسا ہے
اُس چنچل کا قرب ہمیشہ کب حاصل
پل دو پل کا ساتھ جوانی جیسا ہے
اِس قطرے میں جانے الاؤ کیا کیا ہیں
آنکھ میں آنسو یوں تو پانی جیسا ہے
ماجدؔ تیرا فکر امینِ توانائی
اور سخن دریا کی روانی جیسا ہے
ماجد صدیقی

شعر کیا کہوں کہ طبیعت میں روانی کم ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 146
دل سُلگتا ہے مگر سوختہ جانی کم ہے
شعر کیا کہوں کہ طبیعت میں روانی کم ہے
زیست اک آدھ محبت سے بسر ہو کیسے؟
رات لمبی ہو تو پھر ایک کہانی کم ہے
تجھ سے کہنا تو نہیں چاہیے پر کہتے ہیں
ہم نے بھی دولتِ جاں اب کے لٹانی کم ہے
دل کو کیا روئیں کہ جب سوکھ گئی ہوں آنکھیں
شہر ویراں ہے کہ دریاؤں میں پانی کم ہے
ہم نے اندوہ زمانہ سے نہ خم کھایا ہے
شاید اب یوں ہے کہ آشوبِ جوانی کم ہے
جس طرح سانحے گزرے ہیں تیری جاں پہ فراز
اس کو دیکھیں تو یہ آشفتہ بیانی کم ہے
احمد فراز

جسموں کو برف، خون کو پانی کوئی لکھو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 51
اس دورِ بے جنوں کی کہانی کوئی لکھو
جسموں کو برف، خون کو پانی کوئی لکھو
کوئی کہو کہ ہاتھ قلم کس طرح ہوئے
کیوں رک گئی قلم کی روانی کوئی لکھو
کیوں اہلِ شوق سر بگریباں ہیں دوستو
کیوں خوں بہ دل ہے عہدِ جوانی کوئی لکھو
کیوں سرمہ در گلو ہے ہر اک طائرِ سخن
کیوں گلستاں قفس کا ہے ثانی، کوئی لکھو
ہاں تازہ سانحوں کا کرے کون انتظار
ہاں دل کی واردات پرانی کوئی لکھو
احمد فراز

اور پھر وہ بھی زبانی میری

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 192
کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری
خلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھ
دیکھ خوں نابہ فشانی میری
کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
مگر آشفتہ بیانی میری
ہوں ز خود رفتۂ بیدائے خیال
بھول جانا ہے نشانی میری
متقابل ہے مقابل میرا
رک گیا دیکھ روانی میری
قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوں
سخت ارزاں ہے گرانی میری
گرد بادِ رہِ بیتابی ہوں
صرصرِ شوق ہے بانی میری
دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
کھل گئی ہیچ مدانی میری
کر دیا ضعف نے عاجز غالب
ننگِ پیری ہے جوانی میری
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہاں ہم کہاں تم کہاں پھر جوانی

دیوان پنجم غزل 1738
ملو ان دنوں ہم سے اک رات جانی
کہاں ہم کہاں تم کہاں پھر جوانی
شکایت کروں ہوں تو سونے لگے ہے
مری سرگذشت اب ہوئی ہے کہانی
ادا کھینچ سکتا ہے بہزاد اس کی
کھنچے صورت ایسی تو یہ ہم نے مانی
ملاقات ہوتی ہے تو کشمکش سے
یہی ہم سے ہے جب نہ تب اینچا تانی
بسنتی قبا پر تری مر گیا ہے
کفن میر کو دیجیو زعفرانی
میر تقی میر

سنی گرچہ جاتی نہیں یہ کہانی

دیوان چہارم غزل 1503
سنو سرگذشت اب ہماری زبانی
سنی گرچہ جاتی نہیں یہ کہانی
بہت نذریں مانیں کہ مانے گا کہنا
ولیکن مری بات ہرگز نہ مانی
بہت مو پریشاں کھپے اس کے غم میں
خدا جانے ہے بید کس کی نشانی
گیا بھول جی شیب میں جو ہمارا
بہت یاد آئی گئی وہ جوانی
توقع نہیں یاں تک آنے کی ان سے
اگر لطف مجھ پر کریں مہربانی
گری ضبط گریہ سے دل کی عمارت
ہوئی چشم تر اس خرابی کی بانی
ملا دیتی ہے خاک میں آدمی کو
محبت ہے کوئی بلا آسمانی
گرامی گہر میر جی تھا ہمارا
ولے عشق میں قدر ہم نے نہ جانی
میر تقی میر

اب کب گئی اٹھائی ہے زور ناتوانی

دیوان چہارم غزل 1501
اکثر کی بے دماغی ہر دم کی سرگرانی
اب کب گئی اٹھائی ہے زور ناتوانی
تم دل کو دیتے ہو تو بے دل سمجھ کے ہوجو
ہم نے تو قدر دل کی افسوس کچھ نہ جانی
عہد شباب کی تو فرصت تھی ایک چشمک
مژگاں بہم زدن میں جاتی رہی جوانی
حسرت سے دیکھ رہیو اے نامہ بر منھ اس کا
بس اور کچھ نہ کہیو ہرگز مری زبانی
اس غیرت قمر کی خجلت سے تاب رخ کی
آئینہ تو سراسر ہوتا ہے پانی پانی
مرزائی فقر میں بھی دل سے گئی نہ میرے
چہرے کے رنگ اپنے چادر کی زعفرانی
یوں میر تو غم اپنا برسوں کہا کریں گے
اب رات کم ہے سوئو بس ہو چکی کہانی
میر تقی میر

مری زیست ہے مہربانی کے ساتھ

دیوان سوم غزل 1248
نہ باتیں کرو سرگرانی کے ساتھ
مری زیست ہے مہربانی کے ساتھ
نہ اٹھ کر در یار سے جاسکے
یہ کم لطف ہے ناتوانی کے ساتھ
فرو درد آنسو پیے کچھ ہوا
دوا جیسے پیتے ہیں پانی کے ساتھ
کہے میں نے اشعار ہر بحر میں
ولیکن قیامت روانی کے ساتھ
شتابی گئی اس روش فصل گل
کہ جوں رفتگی ہو جوانی کے ساتھ
بکھیرے ہے جوں لخت دل آہ صبح
ہوا کب ہے اس گل فشانی کے ساتھ
جلا جی بہت قصۂ میر سن
بلا سوز تھا اس کہانی کے ساتھ
میر تقی میر

مزہ عمر کا ہے جوانی سے حظ

دیوان سوم غزل 1152
جو وہ ہے تو ہے زندگانی سے حظ
مزہ عمر کا ہے جوانی سے حظ
نہیں وہ تو سب کچھ یہ بے لطف ہے
نہ کھانے میں لذت نہ پانی سے حظ
کہا درد دل رات کیا میر نے
اٹھایا بہت اس کہانی سے حظ
میر تقی میر

دوستی مدعی جانی تھی

دیوان دوم غزل 956
یار بن تلخ زندگانی تھی
دوستی مدعی جانی تھی
سر سے اس کی ہوا گئی نہ کبھو
عمر برباد یوں ہی جانی تھی
لطف پر اس کے ہم نشیں مت جا
کبھو ہم پر بھی مہربانی تھی
ہاتھ آتا جو تو تو کیا ہوتا
برسوں تک ہم نے خاک چھانی تھی
شیب میں فائدہ تامل کا
سوچنا تب تھا جب جوانی تھی
میرے قصے سے سب کی گئیں نیندیں
کچھ عجب طور کی کہانی تھی
عاشقی جی ہی لے گئی آخر
یہ بلا کوئی ناگہانی تھی
اس رخ آتشیں کی شرم سے رات
شمع مجلس میں پانی پانی تھی
پھر سخن نشنوی ہے ویسی ہی
رات ایک آدھ بات مانی تھی
کوے قاتل سے بچ کے نکلا خضر
اسی میں اس کی زندگانی تھی
فقر پر بھی تھا میر کے اک رنگ
کفنی پہنی سو زعفرانی تھی
میر تقی میر

اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی

دیوان دوم غزل 949
میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی
خاطر بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیں
خاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی
ایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاج
اپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی
مینھ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے
اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی
بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا
پر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی
کرکے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہے
وہ نظر پائوں پہ وہ بات دوانی اس کی
اس کا وہ عجز تمھارا یہ غرور خوبی
منتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی
کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشک بہار
رقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی
سرگذشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھا
سو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیے لوگوں کو
شہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی
میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمھاری تلوار
کیا عوض چاہ کا تھا خصمی جانی اس کی
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہے
دردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی
اب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصل
حیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی
میر تقی میر

اے عمر گذشتہ میں تری قدر نہ جانی

دیوان اول غزل 466
غفلت میں گئی آہ مری ساری جوانی
اے عمر گذشتہ میں تری قدر نہ جانی
تھی آبلۂ دل سے ہمیں تشنگی میں چشم
پھوٹا تو نہ آیا نظر اک بوند بھی پانی
مدت سے ہیں اک مشت پر آوارہ چمن میں
نکلی ہے یہ کس کی ہوس بال فشانی
بھاتی ہے مجھے اک طلب بوسہ میں یہ آن
لکنت سے الجھ جا کے اسے بات نہ آنی
کیا جانیے کیا کیا میں لکھوں شوق میں قاصد
پڑھنا نہ کرے خط کا کہیں اس پہ گرانی
تکلیف نہ کر نامہ کے لکھنے کی تو مجھ کو
آجائے جو کچھ جی میں ترے کہیو زبانی
یہ جان اگر بید مولہ کہیں دیکھے
باقی ہے کسو موے پریشاں کی نشانی
دیکھیں تو سہی کب تئیں نبھتی ہے یہ صحبت
ہم جی سے ترے دوست ہیں تو دشمن جانی
مجنوں بھی نہ رسواے جہاں ہوتا نہ وہ آپ
مکتب میں جو کم آتی پہ لیلیٰ تھی دوانی
اک شخص مجھی سا تھا کہ وہ تجھ پہ تھا عاشق
وہ اس کی وفاپیشگی وہ اس کی جوانی
یہ کہہ کے جو رویا تو لگا کہنے نہ کہہ میر
سنتا نہیں میں ظلم رسیدوں کی کہانی
میر تقی میر

میں نے مر مر کے زندگانی کی

دیوان اول غزل 460
کیا کروں شرح خستہ جانی کی
میں نے مر مر کے زندگانی کی
حال بد گفتنی نہیں میرا
تم نے پوچھا تو مہربانی کی
سب کو جانا ہے یوں تو پر اے صبر
آتی ہے اک تری جوانی کی
تشنہ لب مر گئے ترے عاشق
نہ ملی ایک بوند پانی کی
بیت بحثی سمجھ کے کر بلبل
دھوم ہے میری خوش زبانی کی
جس سے کھوئی تھی نیند میر نے کل
ابتدا پھر وہی کہانی کی
میر تقی میر

کہ میری جان نے تن پر مرے گرانی کی

دیوان اول غزل 447
الم سے یاں تئیں میں مشق ناتوانی کی
کہ میری جان نے تن پر مرے گرانی کی
چمن کا نام سنا تھا ولے نہ دیکھا ہائے
جہاں میں ہم نے قفس ہی میں زندگانی کی
ملائی خوب مری خوں میں خاک بسمل گاہ
یہ تھوڑی منتیں ہیں مجھ پہ سخت جانی کی
بتنگ ہوں میں ترے اختلاط سے پیری
قسم ہے اپنی مجھے اس گئی جوانی کی
چلا ہے کھینچنے تصویر میرے بت کی آج
خدا کے واسطے صورت تو دیکھو مانی کی
تری گلی کے ہر اک سگ نے استخواں توڑے
ہماری لاش کی شب خوب پاسبانی کی
رکھے ہیں میر ترے منھ سے بے وفا خاطر
تری جفا کی تغافل کی بدگمانی کی
میر تقی میر

جو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کا

دیوان اول غزل 63
دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا
جو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کا
اگرچہ عمر کے دس دن یہ لب رہے خاموش
سخن رہے گا سدا میری کم زبانی کا
سبک ہے آوے جو مندیل رکھ نماز کو شیخ
رہا ہے کون سا اب وقت سرگرانی کا
ہزار جان سے قربان بے پری کے ہیں
خیال بھی کبھو گذرا نہ پرفشانی کا
پھرے ہے کھینچے ہی تلوار مجھ پہ ہر دم تو
کہ صید ہوں میں تری دشمنی جانی کا
نمود کرکے وہیں بحر غم میں بیٹھ گیا
کہے تو میر بھی اک بلبلا تھا پانی کا
میر تقی میر

قطرہ ٹوٹے تو روانی کا تماشا دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 18
زخم کھائے ہوئے پانی کا تماشا دیکھیں
قطرہ ٹوٹے تو روانی کا تماشا دیکھیں
گاہے پستی کا مکیں ، گاہے بلندی پہ رواں
وقت کی نقل مکانی کا تماشا دیکھیں
جانتے ہیں کہ بنے واقعہ، قصّہ کیسے
ہم کہانی میں کہانی کا تماشا دیکھیں
اتنی خلقت میں مگر آدمی ناپید ملے
جنسِ ارزاں کی گرانی کا تماشا دیکھیں
دن میں سورج کبھی دو بار نکل آئے تو
ہم بھی دوبارہ جوانی کا تماشا دیکھیں
دیمکیں چاٹ چکی ہوں گی صلیبیں کتنی
ہم کہاں کس کی نشانی کا تماشا دیکھیں
پیرہن لمس میں ہوں جیسے بھرے بدنوں کے
لفظ اندر سے معانی کا تماشا دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

تخلیہ اے زندگانی تخلیہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 430
دھڑکنوں کی بدزبانی تخلیہ
تخلیہ اے زندگانی تخلیہ
ظلِ سبحانی ہیں آئے درد کے
اے کنیزِ شادمانی تخلیہ
آرہا ہے وہ چراغِ صبح پا
چاند تارو ، مہربانی ، تخلیہ
مہ وشو!اب یاسمن کے باغ کی
دیکھتے ہیں گل فشانی ، تخلیہ
بجلیو! موسیٰ کلیم اللہ سے میں
سن رہاہوں لن ترانی تخلیہ
بارگاہِ دل میں شرمندہ نہ کر
لمس کی اندھی جوانی تخلیہ
ہے دمِ عارف نسیمِ صبح دم
اے کلیمی اے شبانی تخلیہ
زندگی سے بھر گیا دل حسرتو!
اب کہانی کیا بڑھانی تخلیہ
واہ ، آئی ہے کئی صدیوں کے بعد
پھر صدائے کن فکانی تخلیہ
جائیے کہ آئینے کے سامنے
شکلِ ہستی ہے بنانی تخلیہ
جارہا ہوں میں عدم کے باغ میں
موسموں کی میزبانی تخلیہ
آرہا ہے مجھ سے ملنے آفتاب
بادلوں کی سائبانی تخلیہ
ملنا ہے منصور نے منصور سے
گم کرو اب شکل یعنی تخلیہ
منصور آفاق

الفاظ و معانی سے سنوں شورِ انا الحق

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 210
میں کُن کی کہانی سے سنوں شورِ انا الحق
الفاظ و معانی سے سنوں شورِ انا الحق
پانی بھی علیحدہ نہیں سر چشمہ ء کل سے
دریا کی روانی سے سنوں شورِ انا الحق
اڑتے ہوئے پتے بھی تو ہیں پیڑ کا حصہ
موسم کی جوانی سے سنوں شورِ انا الحق
کثرت کو میں وحدت سے جدا کر نہیں سکتا
تخلیقِ جہانی سے سنوں شورِ انا الحق
آواز سے لفظوں کی جدائی نہیں ممکن
آیاتِ قرانی سے سنوں شورِ انا الحق
منصور زمانے کو خدا کہتی ہے دانش
تقویمِ زمانی سے سنوں شورِ انا الحق
منصور آفاق

فلم جاری ہے کہانی ختم شد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 156
زندگی! اب زندگانی ختم شد
فلم جاری ہے کہانی ختم شد
رو لیا ہے جتنا رو سکتا تھا میں
آنکھ میں جو تھا وہ پانی ختم شد
کر رہا ہوں شام سے فکرِ سخن
یعنی عہدِ رائیگانی ختم شد
میں بھی ہوں موجود اب افلاک پر
لامکاں کی لامکانی ختم شد
رک گیا میں بھی کنارہ دیکھ کر
پانیوں کی بھی روانی ختم شد
چھوڑ آیا ہوں میں شورِ ناتمام
گاڑیوں کی سرگرانی ختم شد
اور باقی ہیں مگر امید کی
اک بلائے ناگہانی ختم شد
آنے سے پہلے بتاتی ہیں مجھے
بارشوں کی بے زبانی ختم شد
دیکھتے ہیں آسماں کے کیمرے
اب گلی کی پاسبانی ختم شد
آ گئے جب تم تو کیا پھر رہ گیا
جو تھا سوچا ، جو تھی ٹھانی ختم شد
بھیج غالب آتشِ دوزخ مجھے
سوزِ غم ہائے نہانی ختم شد
اڑ رہی ہے راکھ آتش دان میں
یار کی بھی مہربانی ختم شد
اب مرے کچھ بھی نہیں ہے آس پاس
ایک ہی تھی خوش گمانی ختم شد
وہ سمندر بھی بیاباں ہو گیا
وہ جو کشتی تھی دخانی ختم شد
اک تکلم اک تبسم کے طفیل
میرا شوقِ جاودانی ختم شد
آہٹیں سن کر خدا کی پچھلی رات
میرے دل کی بے کرانی ختم شد
اک مجسم آئینے کے سامنے
آرزو کی خوش بیانی ختم شد
لفظ کو کیا کر دیا ہے آنکھ نے
چیختے روتے معانی ختم شد
کچھ ہوا ایسا ہوا کے ساتھ بھی
جس طرح میری جوانی ختم شد
اہم اتنا تھا کوئی میرے لیے
اعتمادِ غیر فانی ختم شد
دشت کی وسعت جنوں کو چاہیے
اس چمن کی باغبانی ختم شد
اپنے بارے میں کروں گا گفتگو
یار کی اب ترجمانی ختم شد
ذہن میں منصور ہے تازہ محاذ
سرد جنگ اپنی پرانی ختم شد
منصور آفاق

سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 21
خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ
سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ
شمع کے مانند کیا آتش زبانی پر گھمنڈ
صورتِ پروانہ کر سوز نہانی پر گھمنڈ
ہے اگر شمشیر قاتل کو روانی پر گھمنڈ
بسملوں کو بھی ہے اپنی سخت جانی پر گھمنڈ
ناز اُٹھانے کا ہے اس کے حوصلہ اے جانِ زار
اب تلک تجھ کو ہے زور ناتوانی پر گھمنڈ
نوبت شاہی سے آتی ہے صدا شام و سحر
اور کر لے چار دن اس دار فانی پر گھمنڈ
دیکھ او نادان کہ پیری کا زمانہ ہے قریب
کیا لڑکپن ہے کہ کرتا ہے جوانی پر گھمنڈ
چار ہی نالے ہمارے سن کے چپکی لگ گئی
تھا بہت بلبل کو اپنی خوش بیانی پر گھمنڈ
عفو کے قابل مرے اعمال کب ہیں اے کریم
تیری رحمت پر ہے تیری مہربانی پر گھمنڈ
شمع محفل شامت آئی ہے تری خاموش ہو
دل جلوں کے سامنے آتش زبانی پر گھمنڈ
طبع شاعر آ کے زوروں پر کرے کیوں کر نہ ناز
سب کو ہوتا ہے جوانی میں جوانی پر گھمنڈ
چار موجوں میں ہماری چشم تر کے رہ گیا
ابر نیساں کو یہی تھا ڈر فشانی پر گھمنڈ
دیکھنے والوں کی آنکھیں آپ نے دیکھی نہیں
حق بجانب ہے اگر ہے لن ترانی پر گھمنڈ
عاشق و معشوق اپنے اپنے عالم میں ہیں مست
واں نزاکت پر تو یاں ہے ناتوانی پر گھمنڈ
تو سہی کلمہ ترا پڑھوا کے چھوڑوں اے صنم
زاہدوں کو ہے بہت تسبیح خوانی پر گھمنڈ
سبزہ خط جلد یارب رخ پر اُس کے ہو نمود
خضر کو ہے اپنی عمر جاودانی پر گھمنڈ
گور میں کہتی ہے عبرت قیصر و فغفور سے
کیوں نہیں کرتے ہو اب صاحب قرانی پر گھمنڈ
ہے یہی تاثیر آبِ خنجر جلّاد میں
چشمۂ حیواں نہ کر تو اپنے پانی پر گھمنڈ
حال پر اجداد و آبا کے تفاخر کیا امیر
ہیں وہ ناداں جن کو ہے قصے کہانی پر گھمنڈ
امیر مینائی