ٹیگ کے محفوظات: جنگ

ہَوا میں جذب ہوں ، خوشبو کے انگ انگ میں ہوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 55
سما کے ابر میں ، برسات کی اُمنگ میں ہُوں
ہَوا میں جذب ہوں ، خوشبو کے انگ انگ میں ہوں
فضا میں تیر رہی ہوں ، صدا کے رنگ میں ہوں
لہو سے پوچھ رہی ہوں ، یہ کس ترنگ میں ہوں
دھنک اُترتی نہیں میرے خون میں جب تک
میں اپنے جسم کی نیلی رگوں سے جنگ میں ہوں
بہار نے مِری آنکھوں پہ پُھول باندھ دیئے!
رہائی پاؤں تو کیسے ، حصارِ رنگ میں ہوں
کُھلی فضا ہے ، کُھلاآسماں بھی سامنے ہے
مگر یہ ڈر نہیں جاتا ، ابھی سرنگ میں ہوں
ہوا گزیدہ بنفشے کے پھول کی مانند
پناہِ رنگ سے بچ کر ، پناہِ سنگ میں ہوں
صدف میں اُتروں تو پھرمیں گُہر بھی بن جاؤں
صدف سے پہلے ابھی حلقہ ءِ نہنگ میں ہوں
پروین شاکر

اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا

دیوان سوم غزل 1058
کرتا جنوں جہاں میں بے نام و ننگ آیا
اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا
شب شمع کی بھی جھپکی مجلس میں لگ گئی تھی
سرگرم شوق مردن جس دم پتنگ آیا
فتنے فساد اٹھیں گے گھر گھر میں خون ہوں گے
گر شہر میں خراماں وہ خانہ جنگ آیا
ہر سر نہیں ہے شایاں شور قلندری کا
گو شیخ شہر باندھے زنجیر و زنگ آیا
چسپاں ہے اس بدن سے پیراہن حریری
اتنی بھی تنگ پوشی جی اب تو تنگ آیا
باتیں ہماری ساری بے ڈھنگیاں ہیں وے ہی
بوڑھے ہوئے پہ ہم کو اب تک نہ ڈھنگ آیا
بشرے کی اپنے رونق اے میر عارضی ہے
جب دل کو خوں کیا تو چہرے پہ رنگ آیا
میر تقی میر

پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ

دیوان دوم غزل 795
اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ
پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ
کبھو تو نیو چلاکر ستم کھنچیں کب تک
کماں کے طور سے تو سخت خانہ جنگ ہے شوخ
سکھائیں کن نے تجھے آہ ایسی اچپلیاں
کہ برق پر تری شوخی سے کام تنگ ہے شوخ
بغیر بادہ تو یوں گرم آ کے کب ملتا
نشہ ہے زور تجھے اس کی یہ ترنگ ہے شوخ
جگر میں کس کے ترے ہاتھ سے نہیں سوراخ
ملک تلک تو ترا زخمی خدنگ ہے شوخ
صنم فراق میں میں تیرے کچھ تو کر رہتا
پہ کیا کروں کہ مرا ہاتھ زیرسنگ ہے شوخ
خیال چاہ کے سررشتے کا تجھے کب ہے
ترے تو ہاتھ میں شام و سحر پتنگ ہے شوخ
ابھی تو آنے میں عرصہ ہے کچھ قیامت کے
قد بلند کو کھینچ اپنے کیا درنگ ہے شوخ
برآر میر سے کس طرح تیری صحبت ہو
تجھے تو نام سے اس خستہ جاں کے ننگ ہے شوخ
میر تقی میر

دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے

دیوان اول غزل 602
جاں گداز اتنی کہاں آوازعود و چنگ ہے
دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے
رو و خال و زلف ہی ہیں سنبل و سبزہ و گل
آنکھیں ہوں تو یہ چمن آئینۂ نیرنگ ہے
بے ستوں کھودے سے کیا آخر ہوئے سب کار عشق
بعد ازاں اے کوہکن سر ہے ترا اور سنگ ہے
آہ ان خوش قامتوں کو کیونکے بر میں لایئے
جن کے ہاتھوں سے قیامت پر بھی عرصہ تنگ ہے
عشق میں وہ گھر ہے اپنا جس میں سے مجنوں یہ ایک
ناخلف سارے قبیلے کا ہمارے ننگ ہے
چشم کم سے دیکھ مت قمری تو اس خوش قد کو ٹک
آہ بھی سرو گلستان شکست رنگ ہے
ہم سے تو جایا نہیں جاتا کہ یکسر دل میں واں
دو قدم اس کی گلی کی راہ سو فرسنگ ہے
ایک بوسے پر تو کی ہے صلح پر اے زود رنج
تجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات اوپر جنگ ہے
پائوں میں چوٹ آنے کے پیارے بہانے جانے دے
پیش رفت آگے ہمارے کب یہ عذرلنگ ہے
فکر کو نازک خیالوں کے کہاں پہنچے ہیں یار
ورنہ ہر مصرع یہاں معشوق شوخ و شنگ ہے
سرسری کچھ سن لیا پھر واہ وا کر اٹھ گئے
شعر یہ کم فہم سمجھے ہیں خیال بنگ ہے
صبر بھی کریے بلا پر میر صاحب جی کبھو
جب نہ تب رونا ہی کڑھنا یہ بھی کوئی ڈھنگ ہے
میر تقی میر

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

دیوان اول غزل 28
شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا
آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا
کثرت میں درد و غم کی نہ نکلی کوئی طپش
کوچہ جگر کے زخم کا شاید کہ تنگ تھا
لایا مرے مزار پہ اس کو یہ جذب عشق
جس بے وفا کو نام سے بھی میرے ننگ تھا
دیکھا ہے صید گہ میں ترے صید کا جگر
باآنکہ چھن رہا تھا پہ ذوق خدنگ تھا
دل سے مرے لگا نہ ترا دل ہزار حیف
یہ شیشہ ایک عمر سے مشتاق سنگ تھا
مت کر عجب جو میر ترے غم میں مر گیا
جینے کا اس مریض کے کوئی بھی ڈھنگ تھا
میر تقی میر

ہمارے ساتھ اَبھی نام و ننگ سا کچھ ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 334
شکستہ پیرہنوں میں بھی رنگ سا کچھ ہے
ہمارے ساتھ اَبھی نام و ننگ سا کچھ ہے
حریف تو سپر اَنداز ہو چکا کب کا
درونِ ذات مگر محوِ جنگ سا کچھ ہے
کہیں کسی کے بدن سے بدن نہ چھو جائے
اِس احتیاط میں خواہش کا ڈھنگ سا کچھ ہے
جو دیکھئے تو نہ تیغِ جفا نہ میرا ہاتھ
جو سوچئے تو کہیں زیرِ سنگ سا کچھ ہے
وہ میری مصلحتوں کو بگاڑنے والا
ہنوز مجھ میں وہی بے درنگ سا کچھ ہے
چلو زمیں نہ سہی آسمان ہی ہو گا
محبتوں پہ بہرحال تنگ سا کچھ ہے
عرفان صدیقی

میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 166
تول مت مجھ کو کہ پاسنگ بہت ہے مجھ میں
میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں
آؤ میں تم کو تمہارے کئی چہرے دکھلاؤں
آئنہ خانہ ہوں‘ نیرنگ بہت ہے مجھ میں
میرا دشمن مرے سینے سے اترتا ہی نہیں
غالباً حوصلۂ جنگ بہت ہے مجھ میں
اس نے کیا سوچ کے چھیڑا تھا‘ میں کیا بول اٹھا
تار کوئی غلط آہنگ بہت ہے مجھ میں
اتنی افسردہ نہ ہو کوچۂ قاتل کی ہوا
چھو کے تو دیکھ‘ ابھی رنگ بہت ہے مجھ میں
عرفان صدیقی

جو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 70
اس کارگہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا
جو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا
تصویر کو تصویر دکھائی نہیں جاتی
اس آئنہ خانے میں نظر دنگ نہیں کیا
ہے حلقہ جاں اپنی وفاؤں کا تصور
اس داغ سے آگے کوئی فرسنگ نہیں کیا
ہر بات پہ ہم دیتے ہیں غیروں کا حوالہ
اپنا کوئی آہنگ کوئی رنگ نہیں کیا
بخشے ہوئے اک گھونٹ پہ ہم جھوم رہے ہیں
اب مانگ کے پینا بھی کوئی ننگ نہیں کیا
زخم دل بیتاب ہے ہاتھوں میں نوالہ
اس بات پہ دنیا سے مری جنگ نہیں کیا
وہ رنگ نہیں شعلہ احساس میں باقیؔ
ہم ساز تمنا سے ہم آہنگ نہیں کیا
باقی صدیقی