ٹیگ کے محفوظات: جنجال

شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 49
اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو
شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو
ہر چہرہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا
اب کے دلوں میں ایسا بال پڑا لوگو
جب بھی دیار خندہ دلاں سے گزرے ہیں
اس سے آگے شہر ملال پڑا لوگو
آئے رت اور جائے رت کی بات نہیں
اب تو عمروں کا جنجال پڑا لوگو
تلخ نوائی کا مجرم تھا صرف فراز
پھر کیوں سارے باغ پہ جال پڑا لوگو
احمد فراز

آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 50
شہر کا کیا حال ہے پوچھو خبر
آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر
اب کے سینہ اس بدن افگار کا
کس بدن کی ڈھال ہے پوچھو خبر
کیوں ہے آخر اس گلی میں اژدہام
کون پُر احوال ہے پوچھو خبر
راہ میں اس شہسوار ناز کی
کس کا دل پامال ہے پوچھو خبر
یہ جو سناٹا ہے سارے شہر میں
کیا نیا جنجال ہے پوچھو خبر
جون ایلیا

اتنا ہے کہ طپش سے دل کی سر پر وہ دھمّال نہیں

دیوان چہارم غزل 1444
ضعف دماغ سے کیا پوچھو ہو اب تو ہم میں حال نہیں
اتنا ہے کہ طپش سے دل کی سر پر وہ دھمّال نہیں
گاہے گاہے اس میں ہم نے منھ اس مہ کا دیکھا تھا
جیسا سال کہ پر کا گذرا ویسا بھی یہ سال نہیں
بالوں میں اس کے دل الجھا تھا خوب ہوا جو تمام ہوا
یعنی گیا جب پیچ سے جی ہی تب پھر کچھ جنجال نہیں
ایسی متاع قلیل کے اوپر چشم نہ کھولیں اہل نظر
آنکھ میں آوے جو کچھ ہووے دنیا اتنی مال نہیں
سرو چماں کو سیر کیا تھا کبک خراماں دیکھ لیا
اس کا سا انداز نہ پایا اس کی سی یہ چال نہیں
دل تو ان میں پھنس جاتا ہے جی ڈوبے ہے دیکھ ادھر
چاہ زنخ گو چاہ نہیں ہے بال اس کے گو جال نہیں
کب تک دل کے ٹکڑے جوڑوں میر جگر کے لختوں سے
کسب نہیں ہے پارہ دوزی میں کوئی وصّال نہیں
میر تقی میر

حال کچھ بھی تجھ میں ہے اے میر اپنا حال دیکھ

دیوان سوم غزل 1245
جانے دے مت اس قدر اب زلف و خط و خال دیکھ
حال کچھ بھی تجھ میں ہے اے میر اپنا حال دیکھ
کیا مری طول پریشانی کی حیرت ہم نفس
آنکھیں تو دی ہیں خدا نے اس کے لپٹے بال دیکھ
دامن صحرا میں کیا وسعت ہے جو دل میں نہیں
موند کر آنکھیں گریباں میں بھی ٹک سر ڈال دیکھ
چشم و دل کا اس سے لگ جانا تو تھا جس تس طرح
جی بھی ان بالوں میں الجھا اور یہ جنجال دیکھ
گرچہ اس مہ کی جدائی میں مجھے برسوں ہوئے
لیکن اے اخترشناس اب کا ہے کیسا سال دیکھ
کب نظر میری پڑے گی اس کے روے خوب پر
ہم نشیں ٹک تو بھی مصحف کھول کر تو فال دیکھ
ٹھوکریں دل کو لگے ہیں جب چلے ہے راہ تو
یہ خرام ناز ہے ظالم ٹک اپنی چال دیکھ
میر تقی میر

ہوا جی زلف و کاکل کے لیے جنجال مت پوچھو

دیوان سوم غزل 1229
غریب شہر خوباں ہوں مرا کچھ حال مت پوچھو
ہوا جی زلف و کاکل کے لیے جنجال مت پوچھو
دل صد پارہ کو پیوند کرتا ہوں جدائی میں
کرے ہے کہنہ نسخہ وصل جوں وصّال مت پوچھو
جگر جل کر ہوا ہے کوئلہ بیتاب تو بھی ہوں
طپش سے دل کی میرے سر پہ ہے دھمال مت پوچھو
تعجب ہے کہ دل اس گنج سرگشتہ میں رہتا ہے
خرابے جس سے یہ پاتے ہیں مالامال مت پوچھو
لگا جی اس کی زلفوں سے بہت ہم میر پچھتائے
ہوا ہے مدعی ایک ایک اپنا بال مت پوچھو
میر تقی میر

سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا

دیوان اول غزل 13
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا
سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھائو پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں
دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں
ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعویٰ کیا تھا گل نے ترے رخ سے باغ میں
سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار
تیرا تو میر غم میں عجب حال ہو گیا
میر تقی میر

توڑ کے جدوں نکلے اسیں تنیاں دُکھ دے جال دیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 23
پرت کے دن پئے یاد دلاون سَیتاں اوس ای سال دیاں
توڑ کے جدوں نکلے اسیں تنیاں دُکھ دے جال دیاں
پتھراں تھلے اُگیا گھاہ سی، اک اک ساہ وچ سینے دے
کی دسّئیے کنج تن تے جریاں رُتاں انت وبال دیاں
اک ذری بیڑی ڈولن تے اکھّیاں وچ پھر جان پّیاں
ذہناں دے وچ لتھیاں یاداں خورے کس جنجال دیاں
کنج ہوٹھاں تے پپڑیاں جمّیاں، کنج اکھیں دَبھ جم گئی سی
صدیاں تیکن پین گیاں ایہہ سَتھاں سُکھ دے کال دیاں
کدھرے تے ایہہ قدم اساڈے اُٹھن وَل اُس گُٹھ دے وی
من مِتھے جس اُچ نوں ساڈیاں ایہہ اکھیاں نیں بھالدیاں
آہنڈھ گواہنڈ چ ساڈا سر وی تد ائی اُچیاں رہنا ایں
کُھدراں وسوں کر کے دسّیئے جد باگاں دے نال دیاں
اَدھ کھِڑیاں کلیاں دے ہاسے، ماجدُ ہوٹھیں ورتن پئے
جیٔوں جیٔوں اندر جگدیاں تکئیے سدھراں ابھل بال دیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)