ٹیگ کے محفوظات: جمشید

جاں سپاری شجرِ بید نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 177
عشق تاثیر سے نومید نہیں
جاں سپاری شجرِ بید نہیں
سلطنت دست بَدَست آئی ہے
جامِ مے خاتمِ جمشید نہیں
ہے تجلی تری سامانِ وجود
ذرّہ بے پر توِ خورشید نہیں
رازِ معشوق نہ رسوا ہو جائے
ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہے
غمِ محرومئ جاوید نہیں
کہتے ہیں جیتے ہیں اُمّید پہ لوگ
ہم کو جینے کی بھی امّید نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

نقش اک زنداں ہے جس میں قید ہو جاتا ہوں میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 76
اس کو پیدا کر کے خود ناپید ہو جاتا ہوں میں
نقش اک زنداں ہے جس میں قید ہو جاتا ہوں میں
کیا نشانہ ہے کہ اک چشمِ غلط انداز سے
کتنی آسانی سے اس کا صید ہو جاتا ہوں میں
اک فقیرِ بےنوا ہوں اپنی جلوت میں مگر
تخلیئے میں قیصر و جمشید ہو جاتا ہوں میں
بھیڑ جیسے فرد کا مرقد ہو جس کے درمیاں
میں نہیں رہتا ہوں کوئی زید ہو جاتا ہوں میں
آفتاب اقبال شمیم