ٹیگ کے محفوظات: جما

مجھے بدن سے نکالو، میں تنگ آ گیا ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 29
یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا ہوں
مجھے بدن سے نکالو، میں تنگ آ گیا ہوں
کسے دماغ ہے بے فیض صحبتوں کا میاں
خبر اڑا دو کہ میں شہر سے چلا گیا ہوں
مآلِ عشقِ اناگیر ہے یہ مختصراً
میں وہ درندہ ہوں جو خود کو ہی چبا گیا ہوں
کوئی گھڑی ہے کہ ہوتا ہوں آستین میں دفن
میں دل سے بہتا ہوا آنکھ تک تو آ گیا ہوں
مرا تھا مرکزی کردار اس کہانی میں
بڑے سلیقے سے بے ماجرا کیا گیا ہوں
وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے عجب تحیّر سے
نجانے جھونک میں کیا کچھ اُسے بتا گیا ہوں
مجھے بھلا نہ سکے گی یہ رہگزارِ جنوں
قدم جما نہ سکا، رنگ تو جما گیا ہوں
سب اہتمام سے پہنچے ہیں اُس کی بزم میں آج
میں اپنے حال میں سرمست و مبتلا گیا ہوں
مرے کہے سے مرے گرد و پیش کچھ بھی نہیں
سو جو دکھایا گیا ہے وہ دیکھتا گیا ہوں
اُسے بتایا نہیں ہجر میں جو حال ہُوا
جو بات سب سے ضروری تھی وہ چھپا گیا ہوں
غزل میں کھینچ کے رکھ دی ہے اپنی جاں عرفان
ہر ایک شعر میں دل کا لہو بہا گیا ہوں
عرفان ستار

دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 45
سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے
لاکھ دینے کا ایک دینا ہے
دلِ بے مُدّعا دیا تو نے
بے طلب جو ملا، ملا مجھ کو
بے غرض جو دیا، دیا تو نے
کہیں مشتاق سے حجاب ہوا
کہیں پردہ اٹھا دیا تو نے
مٹ گئے دل سے نقشِ باطل سب
نقش اپنا جما دیا تو نے
مجھ گناہگار کو جو بخش دیا
تو جہنم کو کیا دیا تو نے
داغ کو کون دینے والا تھا
اے خدا ! جو دیا، دیا تو نے
داغ دہلوی