ٹیگ کے محفوظات: جمالی

گرہ میں اعترافِ جرم ہے اور ہاتھ خالی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 356
یہی بس چار نعتیں تھیں جو سینے پر سجالی ہیں
گرہ میں اعترافِ جرم ہے اور ہاتھ خالی ہیں
وہی تیرا تمدن ہے بنو ہاشم کی گلیوں میں
امیہ کے نسب نے تازہ تہذیبیں بنا لی ہیں
ترؐے مذہب میں گنجائش نہیں تھی زرکی سو ہم نے
گھروں سے اشرفیاں ، شام سے پہلے نکالی ہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے مدینہ آنے والا ہے
لبوں پر کپکپاہٹ ہے یہ آنکھیں رونے والی ہیں
نگاہیں دیکھتی تھیں کتنے سچے خواب یثرب کے
یہ پہچانے ہوئے گھر ہیں یہ گلیاں دیکھی بھالی ہیں
وہی لاہوتی کیفیت اترتی ہے رگ و پے میں
وہی نوری فضائیں ہیں وہی صبحیں نرالی ہیں
کوئی قوسِ قزح سی بھر گئی منصور آنکھوں میں
حریمِ رحمتِ عالم کے کیا رنگِ جمالی ہیں
منصور آفاق