ٹیگ کے محفوظات: جلے

شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
طلب پر مُنصفوں کی لو، عدالت میں چلے ہم بھی
شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی
بس اِتنی سی خطا پر، کھوجتے ہیں رزق کیوں اپنا
نگاہوں میں خداوندوں کی کیا کیا کچھ گرے ہم بھی
رگڑتے ایڑیاں، عزّت کی روزی تک پہنچنے میں
نہیں کیا کیا کہیں روکے، کہیں نوچے گئے ہم بھی
پرندوں سا یہ بّچے پالنا بھی، عیب ٹھہرا ہے
بنائیں دشت میں جا کر کہیں اَب گھونسلے ہم بھی
کہیں بے روزگاری پر وظیفے، اور کہیں دیکھو
یہ ہم جو خود کماؤُ ہیں، گئے ہیں دھر لئے ہم بھی
اَب اِس سے بڑھ کے ماجدؔ اور دوزخ دیکھنا کیسا
کہ ادراکِ حقائق سے نہیں کیا کچھ جلے ہم بھی
ماجد صدیقی

دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
عرش قدموں میں ہو، لگے ایسا
دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا
مجھ سے بھی ہیں قرابتیں اُس کی
کاش وہ شخص بھی کہے ایسا
جس سے میرا بدن دو نِیم ہوا
وار دوراں نہ پھر کرے ایسا
دل یہ کہتا ہے خِرمن خواہش
راکھ بن کر اُڑے، جلے ایسا
جس سے واضح ہو وحشتِ انساں
کوئی نکلا نہ ایکسرے ایسا
ہو تاسّف پہ ختم جو ماجدؔ
مول خطرہ کوئی نہ لے ایسا
ماجد صدیقی

نزدیک ہے کہ کہیے اب ہائے ہائے اے دل

دیوان چہارم غزل 1427
دل تو گداز سب ہے کس کو کوئی کہے دل
نزدیک ہے کہ کہیے اب ہائے ہائے اے دل
اس عشق میں نکالے میں نے بھی نام کیا کیا
خانہ خراب و رسوا بے دین اور بے دل
جوں ابر رویئے کیا دل برق سا ہے بے کل
رکھے ہی رہیے اکثر ہاتھ اس پہ جو رہے دل
دل گوکہ داغ و خوں ہے رہتی ہے لاگ تجھ سے
انصاف کر کہ جا کر دکھلاویں پھر کسے دل
دل کے ثبات سے ہم نومید ہو رہے ہیں
اب وہ سماں ہے خوں ہو رخسار پر بہے دل
عاشق کہاں ہوئے ہم پانچوں حواس کھوئے
اس مخمصے میں ازبس حیراں ہے کیا کرے دل
جاتا ہے کیا کھنچا کچھ دیکھ اس کو ناز کرتا
آتا نہیں ہمیں خوش انداز بے تہ دل
ہم دردمند اپنا سوز دروں ہے بے حد
یارب ہمارے اوپر کس مرتبے جلے دل
اے میر اسے ہے نسبت کن حلقہ حلقہ مو سے
بیتاب کچھ ہے گاہے پرپیچ ہے گہے دل
میر تقی میر

عید سی ہوجائے اپنے ہاں لگے جو تو گلے

دیوان دوم غزل 995
جیسے اندوہ محرم عشق کب تک دل ملے
عید سی ہوجائے اپنے ہاں لگے جو تو گلے
دین و مذہب عاشقوں کا قابل پرسش نہیں
یہ ادھر سجدہ کریں ابرو جدھر اس کی ہلے
یہ نہیں میں جانتا نسبت ہے کیا آپس میں لیک
آنکھیں ہوجاتی ہیں ٹھنڈی اس کے تلووں سے ملے
ہائے کس حسرت سے شبنم نے سحر رو کر کہا
خوش رہو اے ساکنان باغ اب تو ہم چلے
مردمان شہر خوبی پر کریں کیا دل کو عرض
ایسی جنس ناروا کو مفت کوئی واں نہ لے
کل جو ہم کو یاد آیا باغ میں قد یار کا
خوب روئے ہر نہال سبز کے سائے تلے
جمع کر خاطر مرے جینے سے مجھ کو خوب ہے
جی بچا تب جانیے جب سر سے یہ کلول ٹلے
گرچہ سب ہیں گے مہیاے طریق نیستی
طے بہت دشوار کی یہ رہگذر ہم نے ولے
ہر قدم پر جی سے جانا ہر دم اوپر بے دمی
لمحہ لمحہ آگے تھے کیا کیا قیامت مرحلے
جلنے کو جلتے ہیں سب کے اندرونے لیک میر
جب کسو کی اس وتیرے سے کہیں چھاتی جلے
میر تقی میر

رہتا ہے آب دیدہ یاں تا گلے ہمیشہ

دیوان دوم غزل 940
پھرتی ہیں اس کی آنکھیں آنکھوں تلے ہمیشہ
رہتا ہے آب دیدہ یاں تا گلے ہمیشہ
تصدیع ایک دو دن ہووے تو کوئی کھینچے
تڑپے جگر ہمیشہ چھاتی جلے ہمیشہ
اک اس مغل بچے کو وعدہ وفا نہ کرنا
کچھ جا کہیں تو کرنا آرے بلے ہمیشہ
کب تک وفا کرے گا یوں حوصلہ ہمارا
دل پیسے درد اکثر غم جی ملے ہمیشہ
اس جسم خاکی سے ہم مٹی میں اٹ رہے ہیں
یوں خاک میں کہاں تک کوئی رلے ہمیشہ
آئندہ و روندہ باد سحر کبوتر
قاصد نیا ادھر کو کب تک چلے ہمیشہ
مسجد میں چل کے ملیے جمعے کے دن بنے تو
ہوتے ہیں میر صاحب واں دن ڈھلے ہمیشہ
میر تقی میر

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

دیوان دوم غزل 906
کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں
چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں
گوہرگوش کسو کا نہیں جی سے جاتا
آنسو موتی سے مرے منھ پہ ڈھلے جاتے ہیں
یہی مسدود ہے کچھ راہ وفا ورنہ بہم
سب کہیں نامہ و پیغام چلے جاتے ہیں
بارحرمان و گل و داغ نہیں اپنے ساتھ
شجر باغ وفا پھولے پھلے جاتے ہیں
حیرت عشق میں تصویر سے رفتہ ہی رہے
ایسے جاتے ہیں جو ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں
ہجر کی کوفت جو کھینچے ہیں انھیں سے پوچھو
دل دیے جاتے ہیں جی اپنے ملے جاتے ہیں
یاد قد میں ترے آنکھوں سے بہیں ہیں جوئیں
گر کسو باغ میں ہم سرو تلے جاتے ہیں
دیکھیں پیش آوے ہے کیا عشق میں اب تو جوں سیل
ہم بھی اس راہ میں سر گاڑے چلے جاتے ہیں
پُرغباری جہاں سے نہیں سدھ میر ہمیں
گرد اتنی ہے کہ مٹی میں رلے جاتے ہیں
میر تقی میر