ٹیگ کے محفوظات: جلسہ

جلسہ

آج سحردم میں نے بھی رک کر وہ جلسہ دیکھا

پکی سڑک کے ساتھ، ذخیرے میں، ٹوٹی سوکھی شاخوں کے

چھدرے چھدرے سائبانوں کے نیچے

شیشم کے گنجان درختوں کے آپس میں جڑے تنے، سب

اس جلسے میں کھڑے تھے!

ایک گزرتے جھونکے کی جھنکار ذخیرے میں لرزاں تھی

’’آس پاس کی کالی رسموں کے سب کھیت ہرے ہیں

اور یہ پانی تمہاری باری کا تھا

اب کے بادل دریاؤں پر جا کر برسے

ان سے تمہارا بھی توعہدنامہ تھا

اب کیا ہو گا؟۔۔۔

چلتے آروں کےآگے چرتے گرتے جسمو

پاتالوں میں گڑ جاؤ ورنہ‘‘

اس تیکھی حجت میں اتنی سچائی تھی

جثّے ان پیڑوں کے سب اک ساتھ ہلے غصّے میں ۔۔۔

اور میری آنکھوں میں پھر گئے دکھ اک ایسے خیال کے، جس کی ثقافت

جانے کب سے اپنا مسکن ڈھونڈ رہی ہے!

مجید امجد

جاری رہا ہے دشت کا جلسہ فراق میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 331
پڑھتا رہا ہوں قیس کا نوحہ فراق میں
جاری رہا ہے دشت کا جلسہ فراق میں
دو موم بتیاں تھیں ، ستارے تھے فرش پر
اک دیکھنے کی چیز تھا کمرہ فراق میں
میں باندھ باندھ دیتا تھا کھونٹے سے اپنا آپ
وحشت کامجھ پہ ایسا تھا غلبہ فراق میں
جس میں بھری ہو نیند سے مری سلگتی آنکھ
دیکھا نہیں ہے میں نے وہ عرصہ فراق میں
شاید مرا لباس تھا وہ دلربا وصال
میں دیکھتا تھا خود کو برہنہ فراق میں
منصوراُس چراغِ بدن سے وصال کا
آسیب بن گیا تھا ارادہ فراق میں
منصور آفاق