ٹیگ کے محفوظات: جلتی

مایوس نظر ہے در کی طرف اور جان نکلی جاتی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 139
سانس ان کے مریضِ حسرت کی رک رک کے چلی جاتی ہے
مایوس نظر ہے در کی طرف اور جان نکلی جاتی ہے
چہرے سے سرکتی جاتی ہے زلف ان کی خواب کے عالم میں
وہ ہیں کہ ابھی تک ہوش نہیں اور شب ہے کہ ڈھلی جاتی ہے
اللہ خبر بجلی کو نہ ہو گلچیں کی نگاہِ بد نہ پڑے
جس شاخ پہ تنکے رکھے ہیں وہ پھولتی پھلتی جاتی ہے
عارض پہ نمایاں خال ہوئے پھر سبزۂ خط آغاز ہوا
قرآں تو حقیقت میں ہے وہی تفسیر بدلتی جاتی ہے
توہینِ محبت بھی نہ رہی وہ جورو ستم بھی چھوٹ گئے
پہلے کی بہ نسبت حسن کی اب ہر بات بدلتی جاتی ہے
لاج اپنی مسیحا نے رکھ لی مرنے نہ دیا بیماروں کو
جو موت نہ ٹلنے والی تھی وہ موت بھی ٹلتی جاتی ہے
ہے بزمِ جہاں میں ناممکن بے عشق سلامت حسن رہے
پروانے تو جل کر خاک ہوئے اب شمع بھی جلتی جاتی ہے
شکوہ بھی اگر میں کرتا ہوں تو جورِ فلک کا کرتا ہوں
بے وجہ قمر تاروں کی نظر کیوں مجھ سے بدلتی جاتی ہے
قمر جلالوی

منجمد ہوتی ہوئی اور پگھلتی ہوئی شام

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 95
اپنی کیفیتیں ہر آن بدلتی ہوئی شام
منجمد ہوتی ہوئی اور پگھلتی ہوئی شام
ڈگمگاتی ہوئی ہر گام سنبھلتی ہوئی شام
خواب گاہوں سے اِدھر خواب میں چلتی ہوئی شام
گوندھ کر موتیے کے ہار گھنی زلفوں میں
عارض و لب پہ شفق سرخیاں ملتی ہوئی شام
اک جھلک پوشش بے ضبط سے عریانی کی
دے گئی، دن کے نشیبوں سے پھسلتی ہوئی شام
ایک سناٹا رگ و پے میں سدا گونجتا ہے
بجھ گئی جیسے لہو میں کوئی جلتی ہوئی شام
وقت بپتسمہ کرے آبِ ستارہ سے اِسے
دستِ دنیا کی درازی سے نکلتی ہوئی شام
آفتاب اقبال شمیم

کیا تیغ ہے، چل جائے تو چلتی ہی چلی جائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 249
گرتی ہی چلی جائے سنبھلتی ہی چلی جائے
کیا تیغ ہے، چل جائے تو چلتی ہی چلی جائے
رُک جاؤں تو بن جائے ہر اک راستہ دیوار
نکلوں تو ہر اک راہ نکلتی ہی چلی جائے
بہتر یہی ہو گا کہ ہم آرام سے سو جائیں
اچھی شب وعدہ ہے کہ ڈھلتی ہی چلی جائے
کیا دار عمل ہے کہ جو جی چاہے سو کیجے
کیا خوب قیامت ہے کہ ٹلتی ہی چلی جائے
اک آگ ہے خوں میں کہ جو مدھم نہیں ہوتی
اک شمع ہے دل میں کہ پگھلتی ہی چلی جائے
میں ہوں کہ جو دھوکا نہیں کھاتا کسی صورت
دنیا ہے کہ یہ روپ بدلتی ہی چلی جائے
ہم تو خس و خاشاک سمجھتے تھے بدن کو
یہ کون سی مٹی ہے کہ جلتی ہی چلی جائے
عرفان صدیقی

نظر دیئے کی طرح چوکھٹوں پہ جلتی رہی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 235
قدم اُٹھے تو گلی سے گلی نکلتی رہی
نظر دیئے کی طرح چوکھٹوں پہ جلتی رہی
کچھ اَیسی تیز نہ تھی اُس کے اِنتظار کی آنچ
یہ زندگی ہی مری برف تھی پگھلتی رہی
سروں کے پھول سرِ نوکِ نیزہ ہنستے رہے
یہ فصل سوکھی ہوئی ٹہنیوں پہ پھلتی رہی
ہتھیلیوں نے بچایا بہت چراغوں کو
مگر ہوا ہی عجب زاویے بدلتی رہی
دیارِ دِل میں کبھی صبح کا گجر نہ بجا
بس ایک دَرد کی شب ساری عمر ڈھلتی رہی
میں اَپنے وقت سے آگے نکل گیا ہوتا
مگر زمیں بھی مرے ساتھ ساتھ چلتی رہی
عرفان صدیقی

پر طاقِ شب تنہائی میں اک شمع مسلسل جلتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 594
ہر شام شعاعیں بجھتی ہیں ہر صبح سیاہی ڈھلتی ہے
پر طاقِ شب تنہائی میں اک شمع مسلسل جلتی ہے
کچھ رنگ اِدھر سے آتے ہیں کچھ رنگ اُدھر سے جاتے ہیں
تاریکی دباتی ہے پاؤں جب روشنی پنکھا جھلتی ہے
تجدید محبت کی کوشش بے سود ہے مجھکو بھول بھی جا
کب راکھ سے شعلے اٹھتے ہیں کب ریت میں کشتی چلتی ہے
یہ کس نے حسیں دوشیزہ کے خوابوں کا تسلسل توڑ دیا
اب چونک کے نیند سے اٹھی ہے گھبرا کے وہ آنکھیں ملتی ہے
ہم لوگ ستم کے شہروں میں مصروف عمل ہیں زیرِ زمیں
آغوشِ شبِ نادیدہ میں تحریک سحر کی پلتی ہے
کیوں اس کا لکھا ہے نام بتا۔۔اس شہر کی سب دیواروں پر
ناراض یونہی وہ شخص نہیں منصوریہ تیری غلطی ہے
منصور آفاق

دور ابھی ایک شمع جلتی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 242
دیکھئے رات کیسے ڈھلتی ہے
دور ابھی ایک شمع جلتی ہے
آرزو چیت بے کلی ساون
تیری نظرو ں سے رت بدلتی ہے
سبز خوشے تری خبر لائے
اب طبیعت کہاں سنبھلتی ہے
دل کی کشتی کا اعتبار نہیں
تیری آواز پر یہ چلتی ہے
تیری چپ کا علاج کیا باقیؔ
بات سے بات تو نکلتی ہے
باقی صدیقی