ٹیگ کے محفوظات: جستجو

کام تھوڑا تھا گفتگو تھی بہت

دل میں ہر چند آرزو تھی بہت
کام تھوڑا تھا گفتگو تھی بہت
سنگِ منزل یہ چھیڑتا ہے مجھے
آ تجھے میری جستجو تھی بہت
اے ہوس دیکھ داغ داغ جگر
تو بھی مشتاقِ رنگ و بُو تھی بہت
بڑھ گئی اُن سے مل کے تنہائی
روح جویائے ہم سبو تھی بہت
اک تِری ہی نگاہ میں نہ جچے
شہر میں ورنہ آبرو تھی بہت
باصر کاظمی

جو کچھ بھی طے کریں وہ مرے رُوبرو کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
عزت وہ دیں مجُھے کہ مرا دل لہو کریں
جو کچھ بھی طے کریں وہ مرے رُوبرو کریں
پل میں نظر سے جو مہِ نخشب سا کھو گیا
کس آس میں ہم اُس کی بھلا جستجو کریں
سُوجھے نہ راہِ ترکِ محبت ہی اک اُنہیں
کچھ اور بھی علاج مرے چارہ جُو کریں
پہنچیں نہ ایڑیاں بھی اُٹھا کر جو مجھ تلک
رُسوا وہ لوگ کیوں نہ مجھے کُو بہ کُو کریں
پیروں تلے ہیں اُس کے سبھی کے سروں کے بال
اب منصفی کو کس کے اُسے رُوبروکریں
اُس کے ستم کا خوف ہی اُس کا ہے احترام
چرچا جبھی تو اُس کا سبھی چار سُو کریں
وہ عجز کیا کہ جس پہ گماں ہو غرور کا
ماجدؔ ہم اختیار نہ ایسی بھی خُو کریں
ماجد صدیقی

جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 116
کیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرے
جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے
اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا دُکھ نہیں
پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے
تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی
خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے
اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیے
تا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے
تجھ کو بھُلا کے دل ہے وہ شرمندۂ نظر
اب کوئی حادثہ ہی ترے روبرو کرے
چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فراز
دنیا تو عرضِ حال سے بے آبرو کرے
احمد فراز

کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 98
اگر وہ صبح کو آئے تو کس سے گفتگو ہو گی
کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی
حقیقت جب تجھے معلوم اے دیوانہ خو ہو گی
جب ان کی جستجو کے بعد اپنی جستجو ہو گی
ملیں گے ہو بہو تجھ سے حسیں آئینہ خانے میں
کسی سے کچھ نہ کہنا ورنہ تم سے دو بدو ہو گی
مآلِ گل کو جب تک آنکھ سے دیکھا نہیں ہو گا
کلی کو پھول بن جانے کی کیا کیا آرزو ہو گی
دلِ مضطرب تو اس محفل میں نالے ضبط کر لے گا
مگر اے چشمِ گریاں تو بہت بے آبرو ہو گی
حریمِ ناز تک تو آگیا ہوں کس سے کیا پوچھوں
یہاں جلوہ دکھایا جائے گا یا گفتگو ہو گی
جنھیں اے راہبر لٹوا رہے ہیں راہِ منزل میں
خدا معلوم ان کے دل میں کیا کیا آرزو ہو گی
ہمارا کیا ہے ارمانِ وفا میں جان دے دیں گے
مگر تم کیا کرو گے جب تمھیں یہ آرزو ہو گی
یہ بلبل جس کی آوازیں خزاں میں اتنی دلکش ہیں
بہاروں میں خدا معلوم کتنی خوش گلو ہو گی
قمر سنتے ہیں تو شیخ صاحب آج توڑیں گے
سجے گا میکدہ آرائشِ جام و سبو ہو گی
قمر جلالوی

خدا رکھے تجھے قاتل رہے دنیا میں تو برسوں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 61
نہ طے کرتا تو رہتا قصۂ تیغوں گلوں برسوں
خدا رکھے تجھے قاتل رہے دنیا میں تو برسوں
خدا کی شان واعظ بھی ہجوِئے مئے کرے مجھ سے
کہ جس نے ایک اک ساغر پہ توڑا ہے وضو برسوں
بہارِ گل میں نکلے خوب ارماں دشتِ وحشت کے
رفو گر نے کیا دامن کی کلیوں پر رفو برسوں
قفس کی راحتوں نے یاد گلشن کی بھلا ڈالی
نہ کی صیاد کے گھر آشیاں کی آرزو برسوں
قفس میں خواب جب دیکھ کوئی دیکھا بہاروں کا
دماغِ اہلِ گلشن میں رہی گلشن کی بو برسوں
قمر یہ کیا خبر تھی وہ ہمارے دل میں رہتے ہیں
رہی جن کے لیئے دیر و حرم میں جستجو برسوں
قمر جلالوی

اے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 76
کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں
اے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیں
بے اشکِ لالہ گوں بھی میں بے آبرو نہیں
آنسو میں رنگ کیا ہو کہ دل میں لہو نہیں
پھر بھی کہو گے چھیڑنے کی اپنی خو نہیں
عطرِ سہاگ ملتے ہو وہ جس میں بو نہیں
یہ کیا کہا کہ بکتے ہو کیوں آپ ہی آپ تم
اے ہم نشیں مگر وہ مرے روبرو نہیں
بے طاقتی نے کام سے یہ کھو دیا کہ بس
دل گم ہوا ہے اور سرِ جستجو نہیں
محفل میں لحظہ لحظہ وہ چشمِ ستیزہ خو
لڑتی ہیں کیوں اگر سرِ صلحِ عدو نہیں
کیا جوشِ انتظار میں ہر سمت دوڑ ہے
بدنامیوں سے ہائے گزر ایک سو نہیں
دی کس نے اشکِ سرمہ سے تیغِ مژہ کو آب
شورِ فغاں کو فکرِ خراشِ گلو نہیں
مصطفٰی خان شیفتہ

ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 192
ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر متاع نفس نذر آہنگ کی، ہم کو یاراں ہوس تھی بہت رنگ کی
گل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
اول شب کا مہتاب بھی جا چکا صحن میخانہ سے اب افق میں کہیں
آخر شب ہے، خالی ہیں جام و سبو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے کہ اب آرزو بھی نہیں
وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہو عمر برباد کر آئے ہیں
تھا سراب اپنا سرمایہ جستجو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
اک جنوں تھا کہ آباد ہو شہر جاں، اور آباد جب شہر جاں ہو گیا
ہیں یہ سرگوشیاں در بہ در کو بہ کو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
دشت میں رقص شوق بہار اب کہاں، باد پیمائی دیوانہ وار اب کہاں
بس گزرنے کو ہے موسم ہائے دہو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
ہم ہیں رسوا کن دلی و لکھنؤ ، اپنی کیا زندگی اپنی کیا آبرو
میر دلی سے نکلے گئے لکھنؤ، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
جون ایلیا

تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 273
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
وگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ سے ہی@ نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادۂ گلفامِ مشک بو@ کیا ہے
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
@ اصل نسخے میں ’جب آنکھ سے ہی‘ ہے لیکن بعض جدید نسخوں میں ’جب آنکھ ہی سے‘ رکھا گیا ہے جس سے مطلب زیادہ واضح ہو جاتا ہے لیکن نظامی میں یوں ہی ہے۔@ "بادہ و گلفامِ مشک بو”۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف

دیوان پنجم غزل 1654
نظر کیوں گئی رو و مو کی طرف
کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف
نہ دیکھو کبھی موتیوں کی لڑی
جو دیکھو مری گفتگو کی طرف
اگر آرسی میں صفائی ہے لیک
نہیں کرتی منھ اس کے رو کی طرف
چڑھے نہ کہیں کود یہ مغز میں
نہ کر شانہ تو گل کی بو کی طرف
اسے ڈھونڈتے میر کھوئے گئے
کوئی دیکھے اس جستجو کی طرف
میر تقی میر

نرمی بھی کاش دیتا خالق ٹک اس کی خو کو

دیوان چہارم غزل 1469
وہ گل سا رو سراہوں یا پیچ دار مو کو
نرمی بھی کاش دیتا خالق ٹک اس کی خو کو
ان گیسوئوں کے حلقے ہیں چشم شوق عاشق
وے آنکھیں دیکھتی ہیں حسرت سے اس کے رو کو
دم کی کشش سے کوشش معلوم تو ہے لیکن
پاتے نہیں ہم اس کی کچھ طرز جستجو کو
آلودہ خون دل سے صد حرف منھ پر آئے
مرغ چمن نہ سمجھا انداز گفتگو کو
دل میر دلبروں سے چاہا کرے ہے کیا کیا
کچھ انتہا نہیں ہے عاشق کی آرزو کو
میر تقی میر

خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم

دیوان چہارم غزل 1440
تجا ہے حیرت عشقی سے گفتگو کو ہم
خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم
اگرچہ وصل ہے پر ہیں طلب میں سرگرداں
پہ وہم کار ہی جاتے ہیں جستجو کو ہم
اب اپنی جان سے ہیں تنگ دم رکا ہے بہت
ملا ہی دیں گے تری تیغ سے گلو کو ہم
جلا کے خاک کرے وہ کہ رہ کے داغ کرے
لگا دیں آگ سے کیا اپنی گرم خو کو ہم
مرید پیر خرابات یوں نہ ہوتے میر
سمجھتے عارف اگر اور بھی کسو کو ہم
میر تقی میر

ان بدمزاجیوں کو چھوڑوگے بھی کبھو تم

دیوان سوم غزل 1173
ہر ہر سخن پہ اب تو کرتے ہو گفتگو تم
ان بدمزاجیوں کو چھوڑوگے بھی کبھو تم
یاں آپھی آپ آکر گم آپ میں ہوئے ہو
پیدا نہیں کہ کس کی کرتے ہو جستجو تم
چاہیں تو تم کو چاہیں دیکھیں تو تم کو دیکھیں
خواہش دلوں کی تم ہو آنکھوں کی آرزو تم
حیرت زدہ کسو کی یہ آنکھ سی لگے ہے
مت بیٹھو آرسی کے ہر لحظہ روبرو تم
تھے تم بھبھوکے سے تو پر اب جلا ہی دوہو
سوزندہ آگ کی کیا سیکھے ہو ساری خو تم
نسبت تو ہم دگر ہے گو دور کی ہو نسبت
ہم ہیں نواے بلبل ہو گل کے رنگ و بو تم
دیکھ اشک سرخ بولا یہ رنگ اور لائے
ہیں میر منھ پہ آنسو یا روتے ہو لہو تم
میر تقی میر

کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح

دیوان سوم غزل 1125
یاد آگیا تو بہنے لگیں آنکھیں جو کی طرح
کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح
چسپاں قبا وہ شوخ سدا غصے ہی رہا
چین جبیں سے اس کی اٹھائی اتو کی طرح
گالی لڑائی آگے تو تم جانتے نہ تھے
اب یہ نکالی تم نے نئی گفتگو کی طرح
ہم جانتے تھے تازہ بناے جہاں کو لیک
یہ منزل خراب ہوئی ہے کبھو کی طرح
سرسبز ہم ہوئے نہ تھے جو زرد ہو چلے
اس کشت میں پڑی یہ ہمارے نمو کی طرح
وے دن کہاں کہ مست سرانداز خم میں تھے
سر اب تو جھوجھرا ہے شکستہ سبو کی طرح
تسکین دل کی کب ہوئی سیرچمن کیے
گو پھول دل میں آگئے کچھ اس کے رو کی طرح
آخر کو اس کی راہ میں ہم آپ گم ہوئے
مدت میں پائی یار کی یہ جستجو کی طرح
کیا لوگ یوں ہی آتش سوزاں میں جا پڑے
کچھ ہو گی جلتی آگ میں اس تندخو کی طرح
ڈرتا ہوں چاک دل کو مرے پلکوں سے سیے
نازک نظر پڑی ہے بہت اس رفو کی طرح
دھوتے ہیں اشک خونی سے دست و دہن کو میر
طورنماز کیا ہے جو یہ ہے وضو کی طرح
میر تقی میر

ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے

دیوان دوم غزل 997
الٰہی کہاں منھ چھپایا ہے تو نے
ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے
جو خواہش نہ ہوتی تو کاہش نہ ہوتی
ہمیں جی سے مارا تری آرزو نے
نہ بھائیں تجھے میری باتیں وگرنہ
رکھی دھوم شہروں میں اس گفتگو نے
رقیبوں سے سر جوڑ بیٹھو ہو کیونکر
ہمیں تو نہیں دیتے ٹک پائوں چھونے
پھر اس سال سے پھول سونگھا نہ میں نے
دوانہ کیا تھا مجھے تیری بو نے
مداوا نہ کرنا تھا مشفق ہمارا
جراحت جگر کے لگے دکھنے دونے
کڑھایا کسو کو کھپایا کسو کو
برائی ہی کی سب سے اس خوبرو نے
وہ کسریٰ کہ ہے شور جس کا جہاں میں
پڑے ہیں گے اس کے محل آج سونے
تری چال ٹیڑھی تری بات روکھی
تجھے میر سمجھا ہے یاں کم کسو نے
میر تقی میر

نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی

دیوان اول غزل 434
یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی
نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی
سحر پاے گل بے خودی ہم کو آئی
کہ اس سست پیماں میں بو تھی کسو کی
یہ سرگشتہ جب تک رہا اس چمن میں
برنگ صبا جستجو تھی کسو کی
نہ ٹھہری ٹک اک جان بر لب رسیدہ
ہمیں مدعا گفتگو تھی کسو کی
جلایا شب اک شعلۂ دل نے ہم کو
کہ اس تند سرکش میں خو تھی کسو کی
نہ تھے تجھ سے نازک میانان گلشن
بہت تو کمر جیسے مو تھی کسو کی
دم مرگ دشوار دی جان ان نے
مگر میر کو آرزو تھی کسو کی
میر تقی میر

جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا

دیوان اول غزل 43
دل سے شوق رخ نکو نہ گیا
جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا
ہر قدم پر تھی اس کی منزل لیک
سر سے سوداے جستجو نہ گیا
سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں
لیکن اے داغ دل سے تو نہ گیا
دل میں کتنے مسودے تھے ولے
ایک پیش اس کے روبرو نہ گیا
سبحہ گرداں ہی میر ہم تو رہے
دست کوتاہ تا سبو نہ گیا
میر تقی میر

پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 75
چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے
پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے
شاید اک بھولی تمنا، مٹتے مٹتے جی اٹھے
اور ابھی اس جلوہ زارِ رنگ و بو میں گھومیے
روح کے دربستہ سناٹوں کو لے کر اپنے ساتھ
ہمہماتی محفلوں کی ہا و ہو میں گھومیے
کیا خبر، کس موڑ پر مہجور یادیں آ ملیں
گھومتی راہوں پہ، گردِ آرزو میں گھومیے
زندگی کی راحتیں ملتی نہیں، ملتی نہیں
زندگی کا زہر پی کر جستجو میں گھومیے
کنجِ دوراں کو نئے اک زاویے سے دیکھیے
جن خلاؤں میں نرالے چاند گھومیں، گھومیے
مجید امجد