ٹیگ کے محفوظات: جراحتِ دل ۔ سائمن فلیچر

جراحتِ دل ۔ سائمن فلیچر

لگے ہیں اِس میں کئی سال اعتراف کروں

نیا بنا دیا تُو نے مِرا دلِ شاعر

مِرا خیال تھا لکھتا ہوں میں ہنر سے مگر

میں جانتا نہ تھا ہوتا ہے کیا دلِ شاعر

جگا کے مجھ کو مِرے خوابِ سبز سے تُو نے

گَلے سے اپنے لگایا مِرا دلِ شاعر

مجھے دکھائی نہ دیتی تھی رہ جو لے جاتی

مقامِ اوج پہ مجھ کو جو تھا دلِ شاعر

میں چل رہا تھا بہت مطمئن، مگر نادان

اِسی گماں میں کہ پہلو میں تھا دلِ شاعر

تجھے خبر تھی کہ رستہ کٹھن تھا، ناہموار

تھکائے دیتا تھا مجھ کو ترا دلِ شاعر

ہوا خنک ہوئی سیکھا نیا ہنر باصِر

سو یہ ہے ایک تشکّر بھرا دلِ شاعر

باصر کاظمی