ٹیگ کے محفوظات: جذبات

بدگمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی

اب انھیں پُرسشِ حالات گراں گزرے گی
بدگمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی
خواہشِ لطفِ پرستش کو مٹا دو دل سے
میری خودداریِ جذبات گراں گزرے گی
مجھ سے پہلے رُخِ سادہ کی حقیقت کیا تھی
منہ نہ کُھلواؤ، مری بات گراں گزرے گی
تم اچانک جسے ہمراہ بنا بیٹھے ہو
ایک دن تم کو وہی ذات گراں گزرے گی
پاس ہو کر بھی اگر دُور رہا مجھ سے کوئی
اور بھی تاروں بھری رات گراں گزرے گی
دل میں اظہارِ محبت پہ کوئی خوش ہو گا
ظاہراً پُھول سی یہ بات گراں گزرے گی
شکیب جلالی

جام چھلکاؤ اندھیری رات ہے

موسمِ گُل ہے، بھری برسات ہے
جام چھلکاؤ اندھیری رات ہے
رنج و غم میں زندگی پاتا ہوں میں
لطف اُن کا موجبِ صَدمات ہے
اُٹھتے جاتے ہیں نگاہوں سے حجاب
جرأتوں پر عالمِ جذبات ہے
کون سی منزل پہ لے آیا جنوں
اب مجسّم حُسن، میری ذات ہے
گِردِ رُخ زُلفیں ہیں اُن کی یا، شکیبؔ
صبح کو گھیرے اندھیری رات ہے
شکیب جلالی

کیا یہ دن رات میری قید میں ہیں ؟

نور و ظلمات میری قید میں ہیں ؟
کیا یہ دن رات میری قید میں ہیں ؟
تو کہے تَو اِنہَیں رِہا کردوں
کچھ سوالات میری قید میں ہیں
قید میں خوش ہُوں سُن کے یہ افواہ
اختیارات میری قید میں ہیں
اِک اشارے کی دیر ہے ورنہ
سب طلسمات میری قید میں ہیں
وقت لا علم ہے ابھی شاید
چند لمحات میری قید میں ہیں
حُسن کو اپنے تُو سنبھال کے رکھ
ابھی جذبات میری قید میں ہیں
محورِ کائنات ہُوں ضامنؔ
انقلابات میری قید میں ہیں
ضامن جعفری

اَب نام ہمارے کوئی سوغات نہ آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
خوشبُو بھی صبا اُس کی لئے سات نہ آئے
اَب نام ہمارے کوئی سوغات نہ آئے
جو لہر بھی اُٹھتی ہو بھلے دل میں اُٹھے وُہ
ہونٹوں پہ مگر تُندیٔ جذبات نہ آئے
اک بار جھنجھوڑا ہو جِسے ابر و ہوا نے
اُس پیڑ پہ پھر لوٹ کے پھل پات نہ آئے
دیکھی تھی نشیمن کے اُجڑنے سے جو پہلے
ایسی بھی گلستاں میں کوئی رات نہ آئے
جو یاد بھی آئے، تو لرزتا ہے بدن تک
آنکھوں میں کہیں پھر وُہی برسات نہ آئے
ہر کوہ یہ کہتا ہے کہ آگے کبھی اُس کے
تیشے میں ہے جو لطفِ کرامات نہ آئے
کرنے کو شفاعت بھی یہ اچّھا ہے کہ ماجدؔ
نیّت ہے بُری جس کی وُہ بد ذات نہ آئے
ماجد صدیقی

خیر سگالی کے اب وُہ جذبات کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
پت جھڑ کی رُت میں پیڑوں پر پات کہاں
خیر سگالی کے اب وُہ جذبات کہاں
لفظوں میں جھنکار کہاں اَب جذبوں کی
ہونٹوں پر جھرنوں جیسے نغمات کہاں
جھُول رہے ہیں جسکے تُند بہاؤ پر
دیکھیں لے کر جاتی ہے یہ رات کہاں
اپنی دُھن میں اُڑنے والا کیا جانے
کون کھڑا ہے اُس کی لگائے گھات کہاں
گُم سُم ہو جائیں مہمان کی دستک پر
گھر والوں کو لے آئے حالات کہاں
اُٹھے ہیں جو فرعونی دستاروں پر
کٹنے سے بچ سکتے ہیں وُہ ہات کہاں
ماجدؔ بنیاؤں سا حصّہ، جیون سے
لینے سے باز آتے ہیں صدمات کہاں
ماجد صدیقی

بڑا دشوار ہے حق بات کہنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 98
چمن کی تیرگی کو رات کہنا
بڑا دشوار ہے حق بات کہنا
جو دھبے گرد کے اشجار پر ہیں
انہیں دھبے نہ کہنا پات کہنا
جو انساں کل فرشتہ تھا نظر میں
اُسے بھی پڑ گیا بد ذات کہنا
شریکِ راحت یاراں نہ ہونا
بجائے آفریں ہیہات کہنا
زباں پر حرفِ حق آئے اگر تو
اُسے تم تنُدیٔ جذبات کہنا
نہ خفت ماننا کوئی تم اپنی
ہماری جیت ہی کو مات کہنا
یہ دنیا ہے یہاں رہنے کو ماجدؔ
پڑے سچ جھوٹ سب اِک سات کہنا
ماجد صدیقی

کچھ سدھائے ہوئے جذبات سے آگے نہ گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 64
تو تعصب کے مقامات سے آگے نہ گیا
کچھ سدھائے ہوئے جذبات سے آگے نہ گیا
یہ بھی انداز تھا حالات کے مفروروں کا
ذہن پُر پیچ سوالات سے آگے نہ گیا
معرکہ ہائے شر و خیر کا اک سلسلہ تھا
جو کبھی جیت، کبھی مات سے آگے نہ گیا
کیا سجھائے کہ حدِ لمس سے آگے کیا ہے
ہاتھ تو خاص مقامات سے آگے نہ گیا
کر دیا سِحرِ سیاست نے دھڑوں کو تقسیم
کوئی اس شہرِ طلسمات سے آگے نہ گیا
لفظ اترا نہ کبھی حاشیئے کے ساحل سے
میں بھی چلتا ہی رہا، رات سے آگے نہ گیا
آفتاب اقبال شمیم