ٹیگ کے محفوظات: جدھر

ہم اِک اُسی کی جستجو لئے نگر نگر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
وُہ جس کے نین نقش اپنے ذہن میں اُتر گئے
ہم اِک اُسی کی جستجو لئے نگر نگر گئے
خیال قُرب اُسی کا سر پہ ابر سا جھُکا رہا
میانِ دشتِ روزگار ہم جدھر جدھر گئے
تھیں اُس کے مُڑ کے دیکھنے میں بھی عجب مسافتیں
حدوں سے شب کی ہم نکل کے جانبِ سحر گئے
دُھلے فلک پہ جس طرح شب سیہ کی چشمکیں
پسِ وصال ہم بھی کچھ اِسی طرح نکھر گئے
اُسی کی دید سے ہمیں تھے حوصلے اُڑان کے
گیا جو وہ تو جانئے کہ اپنے بال و پر گئے
وُہ جن کے چوکھٹوں میں عکس تھے مرے حبیب کے
وُہ ساعتیں کہاں گئیں وہ روز و شب کدھر گئے
ماجد صدیقی

رنگینیاں بکھیر گئے تم جدھر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
پہنچے بہ کوئے دل کہ نظر سے گزر گئے
رنگینیاں بکھیر گئے تم جدھر گئے
حاصل تجھے ہے تیرے قدر و رُخ سے یہ مقام
اور ہم بزورِ نطق دلوں میں اُتر گئے
آیا جہاں کہیں بھی میّسر ترا خیال
نِکلے دیارِ شب سے بہ کوئے سحر گئے
جن کے چمن کو تُو نے بہارِ خیال دی
ماجدؔ ترے وہ دوست کہاں تھے کدھر گئے
ماجد صدیقی

بس اے تب فراق کہ گرمی میں مر گئے

دیوان اول غزل 589
آتش کے شعلے سر سے ہمارے گذر گئے
بس اے تب فراق کہ گرمی میں مر گئے
منزل نہ کر جہاں کو کہ ہم نے سفر سے آہ
جن کا کیا سراغ سنا وے گذر گئے
مشت نمک سے بھی تو کبھو یاد کر ہمیں
اب داغ کھاتے کھاتے فلک جی تو بھر گئے
ناصح نہ روویں کیونکے محبت کے جی کو ہم
اے خانماں خراب ہمارے تو گھر گئے
تلوار آپ کھینچیے حاضر ہے یاں بھی سر
بس عاشقی کی ہم نے جو مرنے سے ڈر گئے
کر دیں گے آسمان و زمیں ایک حشر کو
اس معرکے میں یارجی ہم بھی اگر گئے
یہ راہ و رسم دل شدگاں گفتنی نہیں
جانے دے میر صاحب و قبلہ جدھر گئے
روز وداع اس کی گلی تک تھے ہم بھی ساتھ
جب دردمند ہم کو وے معلوم کر گئے
کر یک نگاہ یاس کی ٹپ دے سے رو دیا
پھر ہم ادھر کو آئے میاں وے ادھر گئے
میر تقی میر

پھر مر بھی جایئے تو کسو کو خبر نہ ہو

دیوان اول غزل 390
نالہ مرا اگر سبب شور و شر نہ ہو
پھر مر بھی جایئے تو کسو کو خبر نہ ہو
دل پر ہوا سو آہ کے صدمے سے ہو چکا
ڈرتا ہوں یہ کہ اب کہیں ٹکڑے جگر نہ ہو
برچھی سی پار عرش کے گذری نہ عاقبت
آہ سحر میں میری کہاں تک اثر نہ ہو
سمجھا ہوں تیری آنکھ چھپانے سے خوش نگاہ
مدنظر یہ ہے کہ کسی کی نظر نہ ہو
کھینچے ہے دل کو زلف سے گاہے نگہ سے گاہ
حیراں نہ ہووے کوئی تو اس طرز پر نہ ہو
سو دل سے بھی نہ کام چلے اس کے عشق میں
اک دل رکھوں ہوں میں تو کدھر ہو کدھر نہ ہو
جس راہ ہو کے آج میں پہنچا ہوں تجھ تلک
کافر کا بھی گذار الٰہی ادھر نہ ہو
یک جا نہ دیکھی آنکھوں سے ایسی تمام راہ
جس میں بجائے نقش قدم چشم تر نہ ہو
ہر یک قدم پہ لوگ ڈرانے لگے مجھے
ہاں یاں کسو شہیدمحبت کا سر نہ ہو
چلیو سنبھل کے سب یہ شہیدان عشق ہیں
تیرا گذار تاکہ کسو نعش پر نہ ہو
دامن کشاں ہی جا کہ طپش پر طپش ہے دفن
زنہار کوئی صدمے سے زیر و زبر نہ ہو
مضطر ہو اختیار کی وہ شکل دل میں میں
اس راہ ہو کے جائوں یہ صورت جدھر نہ ہو
لیکن عبث نگاہ جہاں کریے اس طرف
امکان کیا کہ خون مرے تا کمر نہ ہو
حیراں ہوں میں کہ ایسی یہ مشہد ہے کون سی
مجھ سے خراب حال کو جس کی خبر نہ ہو
آتا ہے یہ قیاس میں اب تجھ کو دیکھ کر
ظالم جفاشعار ترا رہگذر نہ ہو
اٹھ جائے رسم نالہ و آہ و فغان سب
اس تیرہ روزگار میں تو میر اگر نہ ہو
میر تقی میر

بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 12
ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے
کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے
جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخن
ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے
نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں، مر جائیں گے
شاید اپنا بھی کوئی بیت حُدی خواں بن کر
ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے
فیض آتے ہیں رہِ عشق میں جو سخت مقام
آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے
فیض احمد فیض

ورنہ ممکن ہے مری رات بسر بھی ہو جائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 246
اب ضیابار وہ مہتاب ادھر بھی ہو جائے
ورنہ ممکن ہے مری رات بسر بھی ہو جائے
کسی وحشت نے بنایا ہے ہمیں خانہ بدوش
ہم جو صحرا ہی میں رہ جائیں تو گھر بھی ہو جائے
ریت میں پھول کھلیں، سنگ سے چشمہ پھوٹے
زندگی اس کا اشارہ ہے جدھر بھی ہو جائے
یہ کرشمہ کبھی ہوتے نہیں دیکھا ہم نے
سر بھی شانوں پہ رہے معرکہ سر بھی ہو جائے
MERGED پاؤں پتھر ہوں تو کیا وحشت سرکا حاصل
فرض کر لیجیے دیوار میں در بھی ہو جائے
عرفان صدیقی

دستِ دادار بڑا شعبدہ گر ہے سائیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 149
دیکھ لے، خاک ہے کاسے میں کہ زر ہے سائیں
دستِ دادار بڑا شعبدہ گر ہے سائیں
تو مجھے اس کے خم و پیچ بتاتا کیا ہے
کوئے قاتل تو مری راہ گزر ہے سائیں
یہ جہاں کیا ہے بس اک صفحۂ بے نقش و نگار
اور جو کچھ ہے ترا حسنِ نظر ہے سائیں
شہر و صحرا تو ہیں انسانوں کے رکھے ہوئے نام
گھر وہیں ہے دلِ دیوانہ جدھر ہے سائیں
ہم نے پہلے بھی مآلِ شبِ غم دیکھا ہے
آنکھ اب کے جو کھلے گی تو سحر ہے سائیں
پاؤں کی فکر نہ کر بارِ کم و بیش اتار
اصل زنجیر تو سامانِ سفر ہے سائیں
آگے تقدیر پرندے کی جہاں لے جائے
حدِّ پرواز فقط حوصلہ بھر ہے سائیں
شاعری کون کرامت ہے مگر کیا کیجے
درد ہے دل میں سو لفظوں میں اثر ہے سائیں
عشق میں کہتے ہیں فرہاد نے کاٹا تھا پہاڑ
ہم نے دن کاٹ دیئے یہ بھی ہنر ہے سائیں
عرفان صدیقی

اِتنی زنجیروں میں مت جکڑو، بکھر جائیں گے لوگ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 129
موجِ خوں بن کر کناروں سے گزر جائیں گے لوگ
اِتنی زنجیروں میں مت جکڑو، بکھر جائیں گے لوگ
قاتلوں کے شہر میں بھی زندگی کرتے رہے
لوگ شاید یہ سمجھتے تھے کہ مر جائیں گے لوگ
اَن گنت منظر ہیں اور دِل میں لہو دو چار بوُند
رَنگ آخر کتنی تصوِیروں میں بھر جائیں گے لوگ
جسم کی رعنائیوں تک خواہشوں کی بھیڑ ہے
یہ تماشا ختم ہو جائے تو گھر جائیں گے لوگ
جانے کب سے ایک سنّاٹا بسا ہے ذہن میں
اَب کوئی اُن کو پکارے گا تو ڈر جائیں گے لوگ
بستیوں کی شکل و صوُرت مختلف کتنی بھی ہو
آسماں لیکن وہی ہو گا جدھر جائیں گے لوگ
سُرخ رو ہونے کو اِک سیلابِ خوُں دَرکار ہے
جب بھی یہ دَریا چڑھے گا پار اُترجائیں گے لوگ
عرفان صدیقی

جس نے تیرے ایما پر طے کیا سفر اپنا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 36
لے گیا بچا کر وہ دل کے ساتھ سر اپنا
جس نے تیرے ایما پر طے کیا سفر اپنا
زندگی کے ہنگامے دھڑکنوں میں ڈھلتے ہیں
خواب میں بھی سنتے ہیں شور رات بھر اپنا
دل کے ہر دریچے میں جھانکتے ہیں کچھ چہرے
خود کو راہ میں پایا رُخ کیا جدھر اپنا
کون کس سے الجھا ہے، ایک شور برپا ہے
جا رہاہے دیکھو تو قافلہ کدھر اپنا
خیر ہو ترے غم کی شام ہونے والی ہے
اور کر لیا ہم نے ایک دن بسر اپنا
رنگ زندگی دیکھا کچھ یہاں وہاں باقیؔ
غم غلط کیا ہم نے کچھ اِدھر اُدھر اپنا
باقی صدیقی