ٹیگ کے محفوظات: جدائیاں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

دیوان اول غزل 314
جفائیں دیکھ لیاں بیوفائیاں دیکھیں
بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں
تری گلی سے سدا اے کشندئہ عالم
ہزاروں آتی ہوئی چارپائیاں دیکھیں
گیا نظر سے جو وہ گرم طفل آتش باز
ہم اپنے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں دیکھیں
ترے وصال کے ہم شوق میں ہو آوارہ
عزیز دوست سبھوں کی جدائیاں دیکھیں
ہمیشہ مائل آئینہ ہی تجھے پایا
جو دیکھیں ہم نے یہی خود نمائیاں دیکھیں
شہاں کہ کحل جواہر تھی خاک پا جن کی
انھیں کی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں
بنی نہ اپنی تو اس جنگ جو سے ہرگز میر
لڑائیں جب سے ہم آنکھیں لڑائیاں دیکھیں
میر تقی میر

تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی
تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا
جُدا تھے ہم تو میسّر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے
اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ
سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا
فیض احمد فیض