ٹیگ کے محفوظات: جاے

لیکن ہزار حیف نہ ٹھہری ہواے گل

دیوان چہارم غزل 1424
بلبل نے کل کہا کہ بہت ہم نے کھائے گل
لیکن ہزار حیف نہ ٹھہری ہواے گل
رعنا جوان شہر کے رہتے ہیں گل بسر
سر پر ہمارے داغ جنوں کے ہیں جاے گل
دل لوٹنے پہ مرغ چمن کے نہ کی نظر
بے درد گل فروش سبد بھر کے لائے گل
حیف آفتاب میں پس دیوار باغ ہیں
جوں سایہ وا کشیدہ ہوئے ہم نہ پاے گل
بوے گل و نواے خوش عندلیب میر
آئی چلی گئی یہی کچھ تھی وفاے گل
میر تقی میر

باقی نہیں ہے چھاتی میں اپنی تو جاے داغ

دیوان دوم غزل 834
اب اس کے غم سے جو کوئی چاہے سو کھائے داغ
باقی نہیں ہے چھاتی میں اپنی تو جاے داغ
چشم و دل و دماغ و جگر سب کو رو رہے
اس عشق خانہ سوز نے کیا کیا دکھائے داغ
جی جل گیا تقرب اغیار دیکھ کر
ہم اس گلی میں جب گئے تب واں سے لائے داغ
کیا لالہ ایک داغ پہ پھولے ہے باغ میں
بہتیرے ایسے چھاتی پہ ہم نے جلائے داغ
کیا شیخ کے ورع میں تردد ہے ہم نے آپ
سو بار اس کے کرتے سے مے کے دھلائے داغ
آخر کو روے کار سے پردہ اٹھے گا کیا
مقدور تک تو چھاتی کے ہم نے چھپائے داغ
دل کی گرہ میں غنچۂ لالہ کے رنگ میر
سوز دروں سے کچھ نہیں ہے اب سواے داغ
میر تقی میر

یک مشت پر پڑے ہیں گلشن میں جاے بلبل

دیوان اول غزل 265
گل کی جفا بھی جانی دیکھی وفاے بلبل
یک مشت پر پڑے ہیں گلشن میں جاے بلبل
کر سیر جذب الفت گل چیں نے کل چمن میں
توڑا تھا شاخ گل کو نکلی صداے بلبل
کھٹکے ہیں خار ہوکر ہر شب دل چمن میں
اتنے لب و دہن پر یہ نالہاے بلبل
یک رنگیوں کی راہیں طے کرکے مر گیا ہے
گل میں رگیں نہیں یہ ہیں نقش پاے بلبل
آئی بہار و گلشن گل سے بھرا ہے لیکن
ہر گوشۂ چمن میں خالی ہے جاے بلبل
پیغام بے غرض بھی سنتے نہیں ہیں خوباں
پہنچی نہ گوش گل تک آخر دعاے بلبل
یہ دل خراش نالے ہر شب کے میر تیرے
کر دیں گے بے نمک ہی شور نواے بلبل
میر تقی میر