ٹیگ کے محفوظات: جایا

سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 215
گِلے سے باز آیا جا رہا ہے
سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے
نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے
وہاں اب میں کہاں اب تو وہاں سے
مرا سامان لایا جا رہا ہے
عجب ہے ایک حالت سی ہوا میں
ہمیں جیسے گنوایا جا رہا ہے
اب اس کا نام بھی کب یاد ہو گا
جسے ہر دَم بُھلایا جا رہا ہے
چراغ اس طرح روشن کر رہا ہوں
کہ جیسے گھر جلایا جا رہا ہے
بَھلا تم کب چلے تھے یوں سنبھل کر
کہاں سے اُٹھ کے جایا جا رہا ہے
تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے
تو بستر کیوں بِچھایا جا رہا ہے
جون ایلیا

جی الجھتا ہے بہت مت بال سلجھایا کرو

دیوان سوم غزل 1233
سر پہ عاشق کے نہ یہ روز سیہ لایا کرو
جی الجھتا ہے بہت مت بال سلجھایا کرو
تاب مہ کی تاب کب ہے نازکی سے یار کو
چاندنی میں آفتابی کا مگر سایہ کرو
گرچہ شان کفر ارفع ہے ولے اے راہباں
ایک دو ہم سوں کو بھی زنار بندھوایا کرو
شوق سے دیدار کے بھی آنکھوں میں کھنچ آیا جی
اس سمیں میں دیکھنے ہم کو بہت آیا کرو
کوہکن کی ہے قدم گاہ آخر اے اہل وفاق
طوف کرنے بے ستوں کا بھی کبھی جایا کرو
فرق یار و غیر میں بھی اے بتاں کچھ چاہیے
اتنی ہٹ دھرمی بھی کیا انصاف فرمایا کرو
کب میسر اس کے منھ کا دیکھنا آتا ہے میر
پھول گل سے اپنے دل کو تم بھی بہلایا کرو
میر تقی میر

ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے

دیوان دوم غزل 1014
دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے
ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے
یہ قیامت اور جی پر کل گئی پائیز میں
دل خس و خاشاک گلشن سے لگایا چاہیے
خانہ ساز دیں جو ہے واعظ سو یہ خانہ خراب
اینٹ کی خاطر جسے مسجد کو ڈھایا چاہیے
کام کیا بال ہما سے چترشہ سے کیا غرض
سر پر اک دیوار ہی کا اس کی سایہ چاہیے
اتقا پر خانقہ والے بہت مغرور ہیں
مست ناز ایدھر اسے یک بار لایا چاہیے
کیاریوں ہی میں پڑے رہیے گا سائے کی روش
اپنے ہوتے اب کے موسم گل کا آیا چاہیے
یہ ستم تازہ کہ اپنی ناکسی پر کر نظر
جن سے بگڑا چاہیے ان سے بنایا چاہیے
جی نہیں رہتا ہے ٹک ناچار ہم کو اس کی اور
گرتے پڑتے ضعف میں بھی روز جایا چاہیے
گاہ برقع پوش ہو گہ مو پراگندہ کرو
تم کو ہم سے منھ بہر صورت چھپایا چاہیے
وہ بھی تو ٹک دست و تیغ اپنے کی جانے قدر میر
زخم سارے ایک دن اس کو دکھایا چاہیے
میر تقی میر

اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا

دیوان اول غزل 48
اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا
ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یار
سر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا
ہم رہرو ان راہ فنا ہیں برنگ عمر
جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا
پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل
تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
اپنے شہید ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھر
دیوان حشر میں اسے لایا نہ جائے گا
اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک
پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا
ہم بے خودان محفل تصویر اب گئے
آئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا
گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہکن
سنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا
ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کر
پر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
میر تقی میر

سدھراں بھرم گنوایا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 55
رات گئی دن آیا
سدھراں بھرم گنوایا
اکھیاں آپوں روگی
سیکن درد پرایا
گُھوک سُتے دے ویہڑے
چُوڑا کس چھنکایا
توں گُنگیاں دا حامی
بولے کون خدایا
کون نتارے آ کے
زہر دماں وچ دھایا
اسماناں وَل گُھورے
ماجدُ دھرتی جایا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)