ٹیگ کے محفوظات: جایئے

اُس پہ کوئی نظم پِھر لکھ لایئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
کرب کوئی سوچ کر سو جایئے
اُس پہ کوئی نظم پِھر لکھ لایئے
آپ بِن چاہے جو طوطے بن گئے
اِک سبق ہی زیست بھر دُہرائیے
لا کے پنجوں میں کہاں چھوڑے گا باز
یہ رعایت ذہن میں مت لائیے
پُوری کشتی ہو شکنجے میں تو پھر
کُود کر گرداب ہی میں جایئے
پھیلئے تو مثلِ خُوشبو پھیلئے
چھایئے تو ابر بن کر چھایئے
آپ سے بہتر ہو گر نسل آپ کی
اور کسی حاصل کو مت للچایئے
تُم کہ ماجِد ابکے امریکہ میں ہو
گُن کُچھ اپنے بھی یہاں گِنوایئے
ماجد صدیقی

پیکر نازک کو تیرے کیونکے بر میں لایئے

دیوان دوم غزل 1017
ٹک ٹھہرنے دے تجھے شوخی تو کچھ ٹھہرایئے
پیکر نازک کو تیرے کیونکے بر میں لایئے
ساکن دیر و حرم دونوں تلاشی ہیں ترے
تو خدا جانے کہاں ہے کیونکے تجھ کو پایئے
دور ہی سے ہوش کھو دیتی ہے اس کی بوے خوش
آپ میں رہیے تو اس کے پاس بھی ٹک جایئے
ان دنوں رنگ اور کچھ ہے اس دل پرخون کا
حق میں میرے آپ ہی کچھ سوچ کر فرمایئے
جی ہی کھپ جاتا ہے طنز آمیز ایسے لطف سے
ہنس کے جب کہتا ہے سب میں آیئے جی آئیے
دل کے ویراں کرنے میں بیداد کی ہے تونے ہائے
خوش عمارت ایسے گھر کو اس طرح سے ڈھایئے
رات دن رخسار اس کے چت چڑھے رہتے ہیں میر
آفتاب و ماہ سے دل کب تلک بہلایئے
میر تقی میر

کیا کیجے میری جان اگر مر نہ جایئے

دیوان اول غزل 595
منصف جو تو ہے کب تئیں یہ دکھ اٹھایئے
کیا کیجے میری جان اگر مر نہ جایئے
اظہار راز عشق کیے بن رہے نہ اشک
اس طفل ناسمجھ کو کہاں تک پڑھایئے
تم نے جو اپنے دل سے بھلایا ہمیں تو کیا
اپنے تئیں تو دل سے ہمارے بھلایئے
فکر معاش یعنی غم زیست تا بہ کے
مر جایئے کہیں کہ ٹک آرام پایئے
جاتے ہیں کیسی کیسی لیے دل میں حسرتیں
ٹک دیکھنے کو جاں بلبوں کے بھی آیئے
لوٹوں ہوں جیسے خاک چمن پر میں اے سپہر
گل کو بھی میری خاک پہ ووہیں لٹایئے
ہوتا نہیں ہوں حضرت ناصح میں بے دماغ
کر کرکے پوچ گوئی مری جان کھایئے
پہنچا تو ہو گا سمع مبارک میں حال میر
اس پر بھی جی میں آوے تو دل کو لگایئے
میر تقی میر

ایک دن یوں ہی جی سے جایئے گا

دیوان اول غزل 98
کب تلک یہ ستم اٹھایئے گا
ایک دن یوں ہی جی سے جایئے گا
شکل تصویر بے خودی کب تک
کسو دن آپ میں بھی آیئے گا
سب سے مل چل کہ حادثے سے پھر
کہیں ڈھونڈا بھی تو نہ پایئے گا
نہ موئے ہم اسیری میں تو نسیم
کوئی دن اور بائو کھایئے گا
کہیے گا اس سے قصۂ مجنوں
یعنی پردے میں غم سنایئے گا
اس کے پابوس کی توقع پر
اپنے تیں خاک میں ملایئے گا
اس کے پائوں کو جا لگی ہے حنا
خوب سے ہاتھ اسے لگایئے گا
شرکت شیخ و برہمن سے میر
کعبہ و دیر سے بھی جایئے گا
اپنی ڈیڑھ اینٹ کی جدی مسجد
کسی ویرانے میں بنایئے گا
میر تقی میر