ٹیگ کے محفوظات: جاگیر

پھر نہ کہنا کوئی زنجیر تمہارے لیے ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 349
جاؤ اب دشت ہی تعزیر تمہارے لیے ہے
پھر نہ کہنا کوئی زنجیر تمہارے لیے ہے
اپنے ہی دستِ تہی ظرف نے مارا تم کو
اب بکھر جانا ہی اکسیر تمہارے لیے ہے
آخرِ شب تمہیں آنکھوں کا بھرم کھونا تھا
اب کوئی خواب نہ تعبیر تمہارے لیے ہے
عکس نظارہ کرو زود پشیمانی کا
اب تمہاری یہی تصویر تمہارے لیے ہے
آج سے تم پہ درِ حرف و نوا بند ہوا
اب کوئی لفظ نہ تاثیر تمہارے لیے ہے
منصبِ درد سے دل نے تمہیں معزول کیا
تم سمجھتے تھے یہ جاگیر تمہارے لیے ہے
عرفان صدیقی

مرے شہر کی شب ہر چوکھٹ کی زنجیر ہوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 212
دروازوں پر دن بھر کی تھکن تحریر ہوئی
مرے شہر کی شب ہر چوکھٹ کی زنجیر ہوئی
سب دھوپ اتر گئی ٹوٹی ہوئی دیواروں سے
مگر ایک کرن میرے خوابوں میں اسیر ہوئی
مرا سونا گھر مرے سینے سے لگ کر روتا ہے
مرے بھائی‘ تمہیں اس بار بہت تاخیر ہوئی
ہمیں رنج بہت تھا دشت کی بے امکانی کا
لو غیب سے پھر اک شکل ظہور پذیر ہوئی
کوئی حیرت میرے لہجے کی پہچان بنی
کوئی چاہت میرے لفظوں کی تاثیر ہوئی
اس درد کے قاتل منظر کو الزام نہ دو
یہ تو دیکھنے والی آنکھوں کی تقصیر ہوئی
کسی لشکر سے کہیں بہتا پانی رُکتا ہے
کبھی جوئے رواں کسی ظالم کی جاگیر ہوئی
پھر لوح پہ لٹنے والے خزانے لکھے گئے
مجھے اب کے برس بھی دولتِ جاں تقدیر ہوئی
عرفان صدیقی

ہے کوئی میرے علاوہ حرف کی جاگیر کا وارث

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 144
خانقاہِ غم کا سجادہ نشیں ہوں میر کا وارث
ہے کوئی میرے علاوہ حرف کی جاگیر کا وارث
نظم تلوارِ علی ہے اور مصرع لہجہء زینب
کربلائے لفظ ! میں ہوں خیمہء شبیر کا وارث
چشمِ دانش کی طرح گنتا نہیں ہوں ڈوبتے سورج
میں ابد آباد تک ہوں شام کی تحریر کا وارث
کنٹرول اتنا ہے روز و شب پہ سرمایہ پرستی کا
کہ مرا بیٹا ہے میرے پاؤں کی زنجیر کا وارث
نقش جس کے بولتے ہیں ، رنگ جس کے خواب جیسے ہیں
حضرتِ غالب وہی ہے پیکرِ تصویر کا وارث
منصور آفاق