ٹیگ کے محفوظات: جاگا

جو ہو رہا ہے کچھ اس پر بھی تم نے سوچا ہے

وہ ہو رہے گا بالآخر جو ہونے والا ہے
جو ہو رہا ہے کچھ اس پر بھی تم نے سوچا ہے
افُق کی آنکھ میں پھیلی ہوئی ہے لالی سی
یہ آسمان کہاں ساری رات جاگا ہے
سنو کہ آج تمہیں یاد کے دریچوں سے
صدائے رفتہ نے اک بار پھر پکارا ہے
گزر نسیمِ سحر اِس چمن سے آہستہ
کہ پتا پتا بہاروں کے دل کا ٹکڑا ہے
بھٹکتے پھرتے ہیں ہم جس کی دُھن میں مدت سے
جو سوچیے تو وہ منزل بھی ایک رَستا ہے
مرے سفر میں کئی منزلیں پڑیں لیکن
تری گلی میں عجب طرح دل دھڑکتا ہے
وہ قافلہ تو کبھی کا گزر چکا باصرِؔ
کھڑے ہو راہ میں اب انتظار کس کا ہے
باصر کاظمی